Saturday, 20 April 2019
Home / Abdullah Tariq Sohail / Kuch Nahi Hoga

Kuch Nahi Hoga

جی ٹی روڈ پر چار بے گناہ افراد کے قتل پر جو دہائی مچی ہے۔ اسے دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ لواحقین کو انصاف ملے گا لیکن ملک کے زمینی حقائق کچھ اور ہی کہتے ہیں۔ کیا سی ٹی ڈی کے ان گنت مقتولین کے بارے میں کوئی انصاف ہوا۔ یہ المناک واقعہ تو میڈیا کی "ہائپ" بن گیا لیکن کتنے برسوں سے سی ٹی ڈی کے پلٹن جوں کے توں چلتے ہیں"آج فلاں جگہ ایک مقابلے میں اتنے دہشت گرد مارے گئے۔ سرگوشیوں میں اور خلق خدا کی زبان پر ہر واقعے کی مختلف کہانی ہوتی ہے لیکن میڈیا پر سی ٹی ڈی کا پریس ریلیز ہی چلتا ہے۔ صرف اس بار ذرا الگ ہوا۔ کہتے ہیں سی ٹی ڈی بنیادی طور پر بلیک واٹر کے دستوں کی حفاظت کے لئے عمل میں لایا گیا تھا لیکن پھر یہ ادارہ خود ہی بلیک واٹر بن گیا۔ کچھ دن قبل صوابی میں اس کے اہلکاروں نے ایک بے گناہ شہری کو دہشت گرد قرار دے کر اس کے معصوم بچے کے سامنے مار دیا۔ اس کی حراست میں جو لوگ قتل کئے جاتے ہیں ان کا تو کوئی پریس ریلیز بھی جاری نہیں ہوتا۔ کئی برس پہلے کوئٹہ میں چیچنیا سے آنے والی خواتین کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔ بتایا گیا ہے یہ خطرناک دہشت گرد تھیں، خود کش حملہ کرنے آ رہی تھیں بعد میں پتہ چلا کہ وہ زیارتوں کے لئے ایران جا رہی تھیں۔ مالدار گھرانے سے تعلق تھا۔ سبھی زیورات پہنے ہوئے تھے۔ انہی زیورات پر کچھ لوگوں کی نظر تھی۔ اس واقعے پر بھی بہت واویلا مچا تھا۔ پھر کیا ہوا، کوئی نہیں جانتا۔ ایک عورت زخمی حالت میں زمین پر گری ہوئی تھی۔ مرنے سے پہلے اس نے انگلی سے آسمان کی طرف اشارہ کیا۔ آسمانوں سے انگلی کے اس اشارے کا جواب نہیں آیا۔ ساہیوال کا یہ المیہ ہوا تو چینلز نے حسب معمول اسے دہشت گردوں کی ہلاکت کا واقعہ قرار دیا۔ پنجاب پولیس کا اعلامیہ جوں کا توں جاری کر دیا۔ بعد میں وفاقی وزیر اطلاعات نے اطلاع دی کہ مرنے والے چاروں "ہارڈ کور" دہشت گرد تھے۔ ایک تو ان میں تیرہ سالہ بچی تھی۔ وہ بھی ہارڈ کور تھی۔ پھر پنجاب کے وزیر اطلاعات نے بھی وفاق کے وزیر کی ہاں میں ہاں ملائی۔ ایک مقتول کی والدہ خبر سنتے ہی چل بسی۔ وزیر اطلاعات نے نہیں بتایا کہ وہ بھی ہارڈ کور دہشت گردی تھی یا نہیں۔ بعدازاں دونوں وزیروں نے اپنے بیانات میں ترمیم کر لی۔ کبھی ایسے واقعات پر زمین ہل جاتی تھی۔ آسمان تھرا اٹھتا تھا۔ اب مملکت خداداد کی سرزمین بہت سخت، بہت مستحکم ہو گئی ہے۔ ہلنا تو کجا، وائریشن بھی نہیں ہوتی۔ آسمان بھی بہت دور چلا گیا ہے۔ ہماری سرزمین سے اس کا فاصلہ بہت بڑھ گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کو خبر دی گئی اور تبصرے کا کہا گیا۔ انہوں نے کوئی جواب ہی نہیں دیا۔ ان سے پہلے پوچھا گیا، پنجاب میں جرائم بہت زیادہ بڑھ گئے ہیں۔ فرمایا نہیں بڑھے۔ پھر ساہیوال کے واقعے کا پوچھا گیا تو چپ رہے۔ شاید ان کے خیال میں۔ یہ واقعہ قابل ذکر تھا ہی نہیں۔ اب ہر طرف سے تحقیقات کے حکم آ رہے ہیں، ہر ایک نے نوٹس لے لیا ہے۔ لیکن اطمینان رکھئے، کچھ بھی نہیں ہو گا۔ قاتل زیر حراست ہیں۔ موقع محل دیکھ کر بری کر دیے جائیں گے۔ یاد ہو گا، چار سو افراد کے قاتل رائو انور کے خلاف کیسی مہم چلی تھی۔ پھر کچھ ہوا؟ ٭٭٭٭٭ نئے چیف جسٹس نے اپنے پہلے خطاب میں کئی باتیں بہت اہم کیں۔ ایک بات ان میں ایسی تھی جو قبلہ شہباز شریف کو ضرور پڑھنی چاہیے۔ کہا، دنیا بھر میں کسی بھی ملک میں سویلنز پر فوجی عدالتوں میں مقدمے نہیں چلتے۔ امید ہے شہباز شریف نے یہ بات پڑھ اور سن لی ہو گی۔ نہیں پڑھی تو اس روز کا اخبار منگوا لیں۔ مزید فرمایا، حکومتی معاملات میں فوج اور ایجنسیوں کے کردار پر بات ہونی چاہیے۔ نیز یہ کہ لاپتہ افراد اور جبری گمشدگیوں کے منفی اثرات ہوں گے۔ اس پر آمنہ مسعود جنجوعہ اور رضا ربانی خوش ہوں گے۔ مرحومہ عاصمہ جہانگیر ہوتیں توو وہ بھی خوش ہوتیں لیکن افسوس، وہ جہاں فانی سے جہان ابدیت کی طرف کوچ کر چکی ہیں۔ نئے چیف جسٹس نے میثاق حکمرانی کے لئے اداروں کے درمیان مکالمے کی تجویز بھی پیش کی۔ کچھ دانشور حلقوں کا ردعمل اس پر مثبت اور تائیدی ہے لیکن کسی سیاسی جماعت کی طرف سے کوئی اظہار رائے ابھی تک سامنے نہیں آیا۔ اپوزیشن کی طرف سے، نہ حکومت کی طرف سے۔ شاید آنے والے چند دنوں میں آ جائے۔ ۔ ٭٭٭٭٭ ثاقب نثار اب سابق ہو چکے۔ ان کے بارے میں بہت پروگرام ہوئے۔ منفی باتیں بھی کی لیکن مثبت بھی، ایک پہلو مثبت یا منفی کے حوالے سے نہیں، محض معروضی طور پر بہت دلچسپ ہے۔ وہ یہ کہ آپ پاکستان کے سب سے زیادہ شہرت پانے والے چیف جسٹس تھے۔ ان سے پہلے افتخار چودھری نے اپنی عدل بحالی تحریک کے حوالے سے بہت زیادہ شہرت پائی تھی۔ کئی دن ٹی وی چینلز پر ان کے پروگراموں کی لائیو کوریج ہوتی رہی۔ بچے بچے کو ان کی تصویر "یاد" ہو گئی۔ ثاقب نثار نے ان سے کہیں زیادہ شہرت پائی۔ اپنے روزانہ کے چھاپوں، خطابات کی وجہ سے جو بریکنگ نیوز بن کر ٹی وی پر چلتے اور لائیو کوریج کے بعد بھی رات گئے تک دوبارہ نشر ہوتے رہے۔ اس سے بھی زیادہ شہرت انہوں نے ڈیم کی تعمیر کے لئے چلنے والی اشتہاری مہم سے پائی۔ ہرچینل پر ہر روز یہ اشتہار مسلسل چلتا جس میں وہ اور عمران خاں اور نعیم بخاری سمیت دیگر اصحاب چندے کی اپیل کرتے۔ یہ اشتہارات میڈیا نے معاوضے کے بغیر نشر کئے۔ معاوضہ لیتے تو کہا جاتا ہے کہ تیرہ ارب کی رقم بنتی۔ میڈیا کا یہ اشتہار رائیگاں نہیں گیا۔ کہتے ہیں نو ارب روپے جمع ہو چکے۔ نو ارب تھوڑے نہیں ہوتے۔ اس میں جو رقم اداروں نے ملازموں کی تنخواہوں سے کاٹ کر جمع کرائی وہ الگ کر لیں۔ پھر بھی رقم خاصی ہے۔ ٭٭٭٭٭ اس ڈیم کی افتتاحی تقریب ملتوی ہوتی رہی۔ اب بھی نئی تاریخ کا پتہ نہیں۔ وقت پر ہو جاتی تو سنگ بنیاد پر عمران خاں اور ثاقب نثار دونوں کا نام لکھا ہوتا۔ اب صرف عمران خاں کا نام لکھا جائے گا۔ ثاقب نثار نے اس تقریب کے ملتوی ہونے پر ناراضگی بھی ظاہر کی لیکن ملتوی ہونے والی بات ملتوی ہو کر رہی۔