Wednesday, 13 November 2019

Qabar Ko Bhi Hathkari Laga Dein

سر جیفری ڈی مونٹ مورینسی (Geoffery de Montmorency) دو بار پنجاب کے گورنر رہے، یہ پہلی مرتبہ 9 اگست 1928 اور دوسری بار 19 اکتوبر 1932کو گورنر تعینات ہوئے، یہ علم دوست تھے چنانچہ انھوں نے اپنے دور میں پنجاب میں دو بڑے کالجز کی بنیاد رکھی، پہلا کالج سرگودھا کے مضافات میں 1929میں قائم ہوا اور دوسرا لاہور میں بادشاہی مسجد کے قریب بنا، یہ دونوں کالج ڈی مونٹ مورینسی کے نام سے منسوب ہوئے، سرگودھا کالج جنرل تھا جب کہ لاہور کا کالج ڈینٹسٹری (دندان سازی) تھا، یہ پنجاب کا پہلا ڈینٹسٹری کالج تھا، ہمارے موجودہ صدر ڈاکٹر عارف علوی اسی کالج سے فارغ التحصیل ہیں جب کہ سرگودھا کے مونٹ مورینسی کالج کو 1946 میں اپ گریڈ کر کے گورنمنٹ کالج بنا دیا گیا اور یہ کالج 2002 میں سرگودھا یونیورسٹی بن گیا، پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے سرکاری یونیورسٹیوں کو دوسرے شہروں میں سب کیمپس بنانے کی اجازت دے دی، سرگودھا یونیورسٹی نے بھی اس اجازت کا فائدہ اٹھایا اور سات شہروں میں سب کیمپس بنا دیے۔
ان کیمپسز میں منڈی بہاؤ الدین اور لاہور کا کیمپس بھی شامل تھا، پروفیسر میاں جاویدلاہور کیمپس کے سی ای اوتھے، یہ قصور کی تحصیل پتوکی کے گاؤں حبیب آباد کے رہائشی تھے، تعلیم ڈبل ایم اے اور ایل ایل بی تھی اور عمر 45برس تھی، یہ مکمل صحت مند اور متحرک انسان تھے، لاہور میں سرگودھا یونیورسٹی کے ساتھ ساتھ بہاؤ الدین ذکریا یونیورسٹی ملتان نے بھی کیمپس کھول لیا، بہاؤ الدین ذکریا اور سرگودھا یونیورسٹی کے کیمپس کامیاب ہو گئے، ہزاروں طالب علموں نے ان میں داخلہ لے لیا، ان دونوں یونیورسٹیوں کے سب کیمپسز سے پہلے لاہور میں پرائیویٹ یونیورسٹیوں کا کاروبار جوبن پر تھا، شہر میں درجن سے زائد پرائیویٹ یونیورسٹیاں کام کر رہی تھیں اور یہ یہاں سے اربوں روپے کماتی تھیں، یہ آج بھی کما رہی ہیں۔
بہاؤ الدین ذکریا اور سرگودھا یونیورسٹی نے ان پرائیویٹ یونیورسٹیوں کا منافع کھینچنا شروع کر دیا، طالب علم پرائیویٹ کے بجائے سرکاری یونیورسٹیوں میں داخل ہونے لگے اور یہ ایجوکیشن مافیا کے لیے قابل قبول نہیں تھا چنانچہ پرائیویٹ یونیورسٹیوں کے مالکان اکٹھے ہوئے اور انھوں نے میڈیا اور سیاست دونوں کا اثرورسوخ استعمال کرنا شروع کر دیا، مافیاز نے دونوں کیمپس کے مالکان کے خلاف نیب میں مقدمے بنوا دیے اور یوں کیمپس بند ہو گئے اور مالکان سڑکوں پر آ گئے، بہاؤالدین ذکریایونیورسٹی لاہور کے سی ای اومنیر بھٹی ارب پتی تھے، یہ اب ککھ پتی ہو چکے ہیں، ان کی فیکٹریاں اور گھر تک نیلام ہو گئے، سرگودھا یونیورسٹی لاہور کے سی ای او میاں جاوید کے ساتھ بھی یہی ہوا، یہ بھی برباد ہو گئے اور اب سرگودھا یونیورسٹی منڈی بہاؤالدین کیمپس کی باری ہے، طالب علم رل چکے ہیں اور مالکان اپنی گاڑیاں تک بیچ رہے ہیں۔ میں لاہور کیمپس کی طرف واپس آتا ہوں، لاہورکیمپس کے طالب علموں نے 25 ستمبر 2018کو کینال روڈ پر مظاہرہ کیا۔
ٹیلی ویژن چینلز یہ خبر اس وقت تک دکھاتے رہے جب تک چیف جسٹس آف پاکستان نے سوموٹو نوٹس نہ لے لیا، چیف جسٹس نے یہ ایشو ڈی جی نیب لاہور کے حوالے کر دیا، انکوائری شروع ہوئی تو حسب معمول اس ایشو میں بھی کرپشن نکل آئی، نیب میں پنجاب یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر مجاہد کامران اورسرگودھا یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر اکرم چوہدری کے خلاف بھی تحقیقات چل رہی تھیں، نیب نے ان پروفیسروں کے ساتھ ساتھ میاں جاوید کو بھی8اکتوبر2018 کوحراست میں لیا، یہ 9 اکتوبر کو عدالت میں پیش کیے گئے اور عدالت نے نیب کو 10دن کا ریمانڈ دے دیا، یہ 19 اکتوبر تک نیب کی حراست میں رہے اور پھر جوڈیشل ریمانڈ پر کیمپ جیل بھجوا دیے گئے، جیل میں انھیں کوالی فکیشن کے باوجود سی کلاس میں رکھا گیا، انھیں چارپائی کی سہولت تک حاصل نہیں تھی، دسمبر میں سردی میں اضافہ ہو گیا، یہ سردی میں سیل کے ٹھنڈے فرش پر سوتے رہے، ان کے پاس صرف ایک پتلا سا کمبل تھا، یہ ایک مکمل صحت مند اور جوان شخص تھے لیکن نیب کے افسروں کے رویوں اور جیل کے حالات نے انھیں دل گرفتہ کر دیااور یہ آہستہ آہستہ ڈپریشن کے مریض بنتے چلے گئے۔
یہ سردی، ڈپریشن اور نامساعد حالات کی وجہ سے 21دسمبرکو سینے میں درد اور سانس میں رکاوٹ محسوس کرنے لگے، جیل کے عملے نے ان کی شکایت کا نوٹس نہ لیا، میاں جاوید کو اچانک الٹیاں شروع ہو گئیں، یہ جیل کے ڈاکٹر کے پاس لے جائے گئے، ڈاکٹر نے انھیں فوڈ پوائزننگ کی دوا دے دی مگر دوا کے باوجود ان کی طبیعت بحال نہ ہوئی، یہ سینے میں بے چینی محسوس کرنے لگے، ڈاکٹر نے سپرنٹنڈنٹ کو انھیں اسپتال لے جانے کا مشورہ دے دیا، یہ مشورہ ابھی زیر غور تھا کہ میاں جاوید کو ہارٹ اٹیک ہوا اور یہ جیل ہی میں داعی اجل کو لبیک کہہ گئے، جیل کا عملہ انھیں فوری طور پر سروسز اسپتال لے گیا لیکن یہ اس وقت تک زندگی کی سرحد سے بہت دور جا چکے تھے، انتقال کے بعد ان کی لاش کارروائی کے لیے اسپتال کے کوریڈور میں رکھ دی گئی، لاش اسٹریچر پر تھی اور لاش کا ہاتھ ہتھکڑی کے ساتھ اسٹریچر سے بندھا ہوا تھا، اسپتال کے عملے میں سے کسی نے لاش، ہتھکڑی اور اسٹریچر کی تصویر بنائی، یہ تصویر سوشل میڈیا تک پہنچی اور پھر پوری دنیا میں پاکستان کی جگ ہنسائی کا ذریعہ بن گئی، احتساب، انصاف اور ملک تینوں مذاق بن گئے۔
میں پروفیسر میاں جاوید کو بے گناہ نہیں سمجھتا، نیب کہتاہے تو یہ یقینا مجرم ہوں گے لیکن سوال یہ ہے میاں جاوید جیسے پروفیسروں نے کتنی کرپشن کر لی ہو گی؟ کیا یہ کرپشن مالم جبہ کی 275 ایکڑ زمین سے بھی زیادہ تھی، کیا یہ بلوچستان کے سیکریٹری خزانہ مشتاق رئیسانی کے گھر سے ملنے والے 65کروڑ روپوں سے بھی زیادہ تھی، کیا یہ چار ارب روپے کے این ایل سی اسکینڈل سے بھی بڑی تھی اور کیایہ رقم گوندل برادران کے 42ارب، چوہدری برادران کے دو ارب 42 کروڑ روپے، توقیر صادق کے 82ارب، ڈاکٹر عاصم کے 479ارب اورشرجیل میمن کے پونے چھ ارب روپے سے بھی زیادہ تھی؟ کیا میاں جاوید کے ساڑھے گیارہ ہزار جعلی اکاؤنٹس پکڑے گئے تھے اور کیا ان اکاؤنٹس کے ذریعے اڑھائی سو ارب روپے کی منی لانڈرنگ ہوئی تھی، کیا انھوں نے ایس جی ایس اور کوٹیکنا جیسی کمپنیوں سے 60 لاکھ ڈالر کمیشن لیا تھا، کیا یہ برطانیہ اور فرانس میں محلوں کے مالک تھے۔
کیا ان کا پارک لین لندن میں فلیٹ تھا، کیا یہ ایون فیلڈ میں فلیٹس کے مالک تھے، کیا یہ العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ انویسٹمنٹ جیسی کمپنیوں کے مالک تھے، کیا انھیں سعودی عرب کے شاہ خالد نے دو ارب روپے کا چیک دیا تھا اور انھوں نے اس رقم سے جنرل پرویز مشرف کی طرح دوبئی اور لندن میں پراپرٹی خرید لی تھی، کیا یہ جہانگیر ترین کی طرح ساڑھے اٹھارہ ہزار ایکڑ سرکاری زمین کے مالک نکل آئے تھے، کیا انھوں نے علی ترین کی طرح 88کروڑ90 لاکھ روپے میں پی ایس ایل کی چھٹی کرکٹ ٹیم خرید لی تھی اور کیا یہ جعلی بینکوں، جعلی ہاؤسنگ اسکیموں اور جعلی بانڈز کے ذریعے ارب پتی بن گئے تھے، آخر میاں جاوید نے کتنی بڑی کرپشن کی تھی؟ نیب، عدلیہ اور حکومت ان تینوں کو ان سوالوں کا جواب بھی دینا چاہیے، میاں جاوید یقینا کرپٹ ہوں گے لیکن کیا یہ اس آصف علی زرداری سے بھی بڑے کرپٹ تھے جنھیں ریاست نے 2007 میں این آر او کے ذریعے سیاست اور حکومت کی اجازت دے دی تھی۔
ریاست نے جن کا سرے محل اور سوئس اکاؤنٹ میں پڑے 60 لاکھ ڈالر بھی معاف کر دیے اور جن کے اومنی گروپ نے دس برس میں اڑھائی سو ارب روپے کی منی لانڈرنگ کی، آپ ریاست کی فیاضی ملاحظہ کیجیے ہم نے میاں جاوید کو جیل میں دوسرا کمبل نہیں دیا لیکن ہم ریاست کی جے آئی ٹی کے بعد بھی آصف علی زرداری کو ضمانت پر ضمانت دیتے چلے جا رہے ہیں، آپ لکھ لیجیے آصف علی زرداری جس دن گرفتار ہوں گے ریاست اس دن انھیں سرکاری خزانے سے ہیٹر، اے سی، واٹر بیڈ، ادویات، کموڈ اور سیکیورٹی بھی فراہم کرے گی اور انھیں میاں نواز شریف کی طرح جیل کے انتخاب کا موقع بھی دیا جائے گا، ہم بھٹو خاندان کو لندن اور نیویارک میں جعلی اکاؤنٹس کی رقم سے سیون اسٹار قیام کی سہولت بھی دیں گے اور آپ یہ بھی دیکھ لیں ڈاکٹر عاصم ہوں، شرجیل میمن ہوں، ظفر گوندل ہوں، توقیر صادق ہوں یا پھر ایان علی ہوں، یہ لوگ آج کہاں بیٹھے ہیں؟ ہماری عدالتوں نے جنرل پرویز مشرف کو اشتہاری بھی ڈکلیئر کر رکھا ہے۔
ان کے ریڈوارنٹ بھی جاری ہو چکے ہیں اور ان کی جائیدادوں کی قرقی کے احکامات بھی آ چکے ہیں لیکن یہ ملک کے پورے سسٹم کو جوتے کی نوک پر رکھ کر دوبئی میں بیٹھے ہیں اور پاکستان پرانا ہو یا نیا کسی مائی کے لعل میں انھیں واپس لانے کی ہمت نہیں، آپ دیکھ لیجیے گا ریاست آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف دونوں سے اس باربھی ایک پیسہ وصول نہیں کر سکے گی، ہم الٹا ان دونوں کی سیکیورٹی، علاج اور نگہداشت پر مزید پانچ دس کروڑ روپے خرچ کر دیں گے، ہم انھیں کسی دن نہلا دھلا کر کرسی اقتدار پر بھی بٹھا دیں گے جب کہ ہم نے میاں جاوید کو جیل کی ٹھنڈی کوٹھڑی میں مار دیا اور یہ مرنے کے پانچ گھنٹے بعد بھی اسٹریچر پر ہتھکڑی میں بندھے رہے، یہ ہیں ہم، ہمارا احتساب اور ہمارا انصاف۔
میں دل سے سمجھتا ہوں میاں جاوید اس ملک کا سب سے بڑا مجرم تھا، کیوں؟ کیونکہ یہ چھوٹا کرپٹ تھا، یہ پروفیسر تھا، یہ اس اندھے بہرے معاشرے میں تعلیم دینے کا جرم کر بیٹھا تھا اوریہ بے وقوف بھی تھا، یہ اگر کرپشن کرنا چاہتا تھا تو اسے سیاست اور سول سروس کا راستہ اختیار کرنا چاہیے تھا، اسے جعلی اکاؤنٹس اور جعلی کمپنیوں کے ذریعے اربوں روپے دائیں بائیں کرنے چاہیے تھے، یہ بے وقوف شخص اگر ملک کے اربوں روپے کھا جاتا تو قوم جیل میں اس کا پروٹوکول اور سیکیورٹی بھی دیکھتی، یہ ٹھنڈے فرش پربھی نہ مرتا اور اس کی لاش کو ہتھکڑی بھی نہ لگتی، ہم منافق معاشرہ ہیں اور منافق معاشروں میں چھوٹی کرپشن جرم ہوتی ہے اور میاں جاوید یہ جرم کر بیٹھا تھالہٰذا میری ریاست پاکستان سے درخواست ہے آپ پلیز، پلیز اور پلیز میاں جاوید کی قبر کو بھی ہتھکڑی لگا دیں تاکہ لوگ شرم کریں اور یہ آیندہ چھوٹی کرپشن کی غلطی نہ کریں، یہ جب بھی کھائیں کھربوں روپے کھائیں۔

About Javed Chaudhry

Javed Chaudhry is a newspaper columnist in Pakistan. His series of columns have been published in six volumes in Urdu language. His most notable column ZERO POINT has great influence upon people of Pakistan especially Youth and Muslims of Pakistan. He writes for the Urdu newspaper Daily Express four time a week, covering topics ranging from social issues to politics.