1.  Home/
  2. Zaara Mazhar/
  3. Udas December Ki Pehli Dastak

Udas December Ki Pehli Dastak

کہنے لگیں وٹہ سٹہ بھی کامیاب ہو سکتی ہیں۔ بغیر کسی رنجش کے۔ ہم نے پوچھا کیسے۔۔ ہمارے معاشرے میں تو دس سال بعد بھی اسی گھر میں رشتہ کریں تو وٹہ سٹہ بن جاتا ہے اور گھر اجڑ جاتے ہیں۔ دس سال بعد بھی دبے ہوئے مردے شکوے بن کرجاندار ہو جاتے ہیں اور بھوت بن کر حساب کتاب چکتا فرماتے ہیں۔۔

وٹہ سٹہ صرف مرد کی برداشت کا امتحان ہوتا ہے اور اسی کی معاملہ فہمی سے گھر بس جاتے ہیں۔ اگر ان کا میٹر شارٹ ہوتا رہے تو سب اجڑ جاتے ہیں۔ ہمیں کچھ الجھاؤ سا محسوس ہوا۔۔ کچھ مزید روشنی ڈالئے ناں۔ ہم نے انکے مشاہدے بلکہ تجربے سے مثال لینا چاہی۔

میں کراچی سے بیاہ کر پنجاب (فیصل آباد) ماموں کے گھر آئی تھی۔ مجھ سے پہلے میری دو بھابھیاں اسی گھر سے رخصت ہوکے میرے بھائیوں کی بیویاں تھیں ایک ہی گھر میں رہتی تھیں تو بہن والا رشتہ ختم کر کے دیورانیاں جیٹھانیاں بن کے ناراضگی و ناخوشی سے ہنسی خوشی رہنے لگیں۔ ہر وقت آپس میں مقابلہ بازی چلتی رہتی۔ لگتا ایک تو دوسری کو نکلوا کے رہے گی۔۔ میں بھائیوں سے چھوٹی تھی اور اماں کے علاوہ گھر بھر کی لاڈلی بھی۔ ابا تھے نہیں تو اب میں اور اماں ہی ایک دوسرے کا سب کچھ تھیں۔ بیمار والدہ کا خیال بھی رکھتی اور سنبھالتی بھی ان دونوں کو اپنے بچوں اور مقابلے بازیوں سے ہی فرصت نہ ملتی تھی۔۔۔

اپنے پھڈوں میں مجھے ثالث کرتیں۔ دونوں کا زور ہوتا کہ میں اسکی طرف داری کروں مجھے راضی رکھنے میں کسر نہ اٹھا رکھتیں ایک دائیں بازو سے کھینچتی دوسری بائیں سے میرے بازو کندھوں سے اکھڑنے لگتے۔ دونوں جوڑے میرے تو بھائی بھابھی تھے۔ شام کو بھائیوں کی عدالت لگتی تو ڈگری میرے خلاف جاری ہو جاتی کتنا بھی تول تول کے بولتی ایک آدھ جملہ دوسری کے خلاف پڑ جاتا اور قصور میرا نکل آتا اور میں ہی معتوب ٹہرائی جاتی بھائیوں کا لٹھ میری طرف گھوم جاتا تب دونوں راضی ہوتیں۔

اسی کھٹ پٹ میں میں گریجویٹ ہوگئی۔۔ اماں کو میری شادی کی فکر کھانے لگی۔ ایسا ہی ایک جھگڑا نمٹانے اور بہنوں سے ملنے فیصل آباد سے ماموں کا بیٹا کراچی آیا۔ بہنوں کی عدالت لگی اور حسبِ معمول قصور میرا نکل آیا۔ اس دن میرے آنسوؤں نے بے وفائی کی اور بند باندھنے کی ہر شعوری کوشش کو رد کر دیا۔ جانے اسے مجھ میں یا میرے آنسوؤں میں کیا نظر آیا کہ واپس جاتے ہی ممانی کی طرف سے سوال آگیا۔ شائد اسے بھی لگا کہ دونوں کے بیچ میں میں ہی فساد کی جڑ ہو یا مجھ پہ ترس آگیا مامی نے فون پہ ہی ہاں کروا کے چھوڑی۔۔

دو ماہ میں رخصت ہو کے سسرال آ گئی۔ پہلے دن سے ہی طے کر لیا تھا کہ بھابھیوں کی طرح جھگڑا نہیں کرنا۔۔ دل میں سوچا سر کو اوپر نیچے ہلانا ہے۔ دائیں بائیں والی ڈوری توڑ دی۔ بس یہ فیصلہ میرے گلے پڑ گیا۔ میں سمجھوتے کرتے کرتے تھک گئی لیکن کراچی میں بسی بہنوں کے شکوے ہی ختم نہ ہوتے کہ تم ماں کا خیال نہیں رکھتی۔۔ بھائی کا نہیں رکھتی گھر کو گھر نہیں سمجھتی۔ کچھ بھی ہوتا رہے تمہیں غرض نہیں ہوتی۔۔ اب دونوں کا ریڈیو فیصل آباد کی فریکوئنسی پہ سیٹ ہوگیا۔

باہمی اختلاف بھلا کے ہزاروں کلومیٹر دور میرے ہی پیچھے پڑی رہتیں۔ ایک آدھ بار شوہر سے شکوہ کیا تو اس نے گربہ کشتن روزِ اوّل کے مصداق ہاتھ پکڑ کے گیٹ کھولا اور رستہ دکھا دیا کہ وہ سڑک ہے کراچی جاتی ہے رہنا ہے تو اندر آجاؤ ورنہ سڑک ناپو۔۔ آئندہ شکوہ نہیں سنوں گا بہنوں کے جھگڑے نمٹا نمٹا کے تھک گیا ہوں مجھے اپنے گھر میں سکون چاہئے۔۔ ماں بھائیوں سے تعلق رکھنا ہے تو برداشت کرو نہیں تو چھوڑ دو۔ میں ہکا بکا چپ کی چپ رہ گئی بلکہ اتنے دو ٹوک فیصلے سے اپنے اندر مر گئی۔۔۔

زندگی کو جینے کی خواہش چھوڑ دی۔ سال میں دو دو جوڑے گرمی سردی کے بنا کہے گھر بیٹھے مل جاتے ہیں۔ دو وقت کی روٹی بھی تازہ ملتی ہے۔ میں نے تمام خواہشات کو اپنے اندر مار دیا ہے۔ جانے کون سی دودھ کے ابال سی محبت تھی جو مجھے بیاہ لایا۔ اب تو بس ایک مشین ہے۔ وہ دونوں مجھے وہاں سے نکال کے دوبارہ سگی بہنیں بن چکی ہیں۔ اپنی ساری منفی انرجی میرے کان میں انڈیل کے ایک دوسری کے ساتھ بہناپا نبھا رہی ہیں۔ مجھے بھائی واپس مل چکے ہیں۔ تینوں گھر میری خاموشی سے بس رہے ہیں۔ میں احتجاج کرتی تو تینوں اجڑ جاتے۔۔۔

چھ انسان، سات بچے بکھر جاتے۔ ہے کوئی جو میرے فیصلے کو غلط ثابت کرے یا اس کا کوئی شافی حل بتائے۔۔۔ تم سوشل ایشوز پہ لکھتی ہو ناں؟ اپنے قاری سے پوچھو کیا میں کراچی کی سڑک پکڑ لوں؟ یا لاشہ گھسیٹتی رہوں۔ اپنے قاری کا فیصلہ مجھ تک ضرور پہنچانا۔

Check Also

Meri Koi Party Nahi

By Sajjad Mir