1.  Home/
  2. Zaara Mazhar/
  3. Tamacha (1)

Tamacha (1)

میں جس کنبے میں بیاہ کر گئی ان کے چھ بیٹے تھے میرے حصے میں جو آیا وہ سب سے چھوٹا اور زبردستی کا لاڈلا تھا، ایسے لاڈلے بڑے بھائیوں کی شادی کے بعد نکھٹو کہلاتے ہیں یا طفیلی۔ میری قسمت کی خرابی تھی جو مجھے اس کے پلے سے باندھ دیا گیا۔ میری شادی کے وقت بڑے پانچوں بڑے بڑے عہدوں تک جانے کی پہلی پہلی سیڑھیوں پہ قدم رکھ چکے تھے اور مختلف شہروں میں رہتے تھے، ساس سسر اپنی تربیت اور بچوں کی کامیابیوں پہ پھولے نہ سماتے تھے۔

سب کی بیویاں اچھے گھرانوں سے تھیں اور پڑھی لکھی سلیقہ شعار تھیں میں بھی ایک نجیب الطرفین گھرانے سے تعلق رکھتی تھی، خاصی چھانٹ چھلنی کے بعد منتخب کی گئی تعلیم میں حسن، صورت و سیرت میں اپنی جیٹھانیوں کے ہم پلہ تھی۔ مستقبل کے وہ بڑے سرکاری ملازم مختلف بہانے گھڑ کے باری باری بیویوں کو ساتھ لے گئے کسی کو سرکاری مراعات سے فائدہ اٹھانا تھا، کسی کو گھر الاٹ کروانا تھا، کسی کو بچوں کی مہنگی اور فری اسکولنگ کروانی تھی اور کسی کو گھر کے کھانے کھانے تھے جو بیوی ہی پکوا سکتی تھی۔

پرانے گھر میں فالتو اور ناکارہ پرزے بچے تھے جن میں میں، ساس سسر اور نکھٹو میاں تھے جن کےتھوڑے بہت راتب کا بندوبست کماؤ پوت کر دیا کرتے تھے، باقی کے اخراجات کا سنبھالا سسر کی پینشن کر لیتی میں اس کاٹھ کباڑ کی خدمت جوگی مخصوص کر دی گئی۔ ارد گرد اپنی ہی برادری بستی تھی روز ہی شام کو کوئی نہ کوئی آجاتا اور مہمان داری میری ذمہ داری تھی۔ مجھے یہ سب کچھ دو وقت کی روٹی کے بدلے میں کرنا پڑتا تھا۔ نکھٹو صاحب زبان اور مزاج کا تیز ہونے کے ساتھ ساتھ ہتھ چھٹ بھی تھا جسے میں نے اپنی قسمت سمجھ کے چپ چاپ قبول کر لیا تھا کیونکہ میرے گھر میں میرے بعد چار اور بہنیں تھیں۔

شوہر نکھٹو ہو تو بیوی کی زندگی رک جاتی ہے یا پھر بے نتیجہ کے امتحانوں میں گھری رہتی ہے۔ ساتھ رہتی تھی دو دو جوڑے سردی، گرمی کے ساس لا دیتی تھیں اس کے بعد شائد میری کوئی ضرورت تھی نہ زندگی۔ ساس سسر ہمہ وقت پردیسی بچوں کو یاد کرتے رہتے فون کر کر کے اصرار سے حال احوال پوچھتے، کرخت لہجے میں شیرا بھر کے فلاں متوقع چھٹی پہ گھر کا پھیرا مار جانے کا اصرار کرتے، نتیجے میں ہر مہینے پندھرواڑے کوئی تھکا تھکایا آدھمکتا اور مجھے کولہو کا بیل بننا پڑتا کہ ساس سسر کے بچے اور ان کے بچے گھر تھکن اتارنے اور چھٹی منانے آئے ہیں۔

کمر کس لو ابھی میری پچھلی تھکن نہ اترتی کہ پھر کوئی بیٹا اور پوتا پوتی لاڈ اٹھوانے آجاتے۔ میری تھکن کا کوئی خیال نہیں تھا اگر کبھی بھول چوک سے میرا میکے جانے کا پروگروام ہوتا بھی تو ان کے آنے کا سن کے ملتوی کروا دیا جاتا۔ اس دوران ربّ نے مجھے کوئی اولاد بھی نہیں دی کہ اس کو اٹھانے اور سنبھالنے کے بہانے مجھے تھوڑا ذہنی و جسمانی آرام کا موقعہ مل جاتا۔ میں اپنے اندر گھٹ گھٹ کے جینے لگی میری جیٹھانیاں اور ساس بچہ نہ ہونے کا ذمہ دار مجھے ہی سمجھتی تھیں۔

شائد ہمارے معاشرے میں مرد کو ازل سے ہر لحاظ سے تندرست قرار دیا جا چکا ہے اسی لئے بچہ نہ ہونے کا ذمہ دار عورت کو سمجھا جاتا ہے۔ مجھے سمجھ ہی نہیں آتی تھی میں خوش نصیب ہوں کہ بد نصیب؟ اکثر ہی روانی میں ان کے منہ سے نکل جاتا تمہارے کون سا بچے ہیں تم تو بڑے آرام میں ہو اگرچہ وہ طعنہ نہیں ہوتا تھا پہلے ہی بے روزگار شوہر سینے میں انی کی طرح گڑا تھا تو یہ معمول کا بے ضرر طعنہ سینے میں برچھی کی طرح اتر جاتا۔

اکثر ساس کہہ دیتیں فلاں بچہ تم سلا لو سدرہ کو تھوڑا آرام کا موقعہ مل جائے گا رات بھر سوئی نہیں تھی، انداز ایسا ہی ہوتا کہ نہ بال بچہ ہے نہ شوہر کماتا ہے تم تو بیکار کا بوجھ ہمارے اوپر پڑی ہو سو ہمارا احسان ہے کہ تمہیں رکھا ہوا ہے۔ بڑے پانچ بیٹے تھے اور اپنی فیملی بنانے کےعمل میں تھے ہر سال ڈیڑھ میں کسی نہ کسی کے ہاں خوشخبری متوقع ہوتی، ڈیلیوری کے وقت مجھے بھیج دیا جاتا کہ زچہ محترمہ اور گھر بار بھی سنبھل جائے گا اور ملازمین بھی۔

واپسی پہ ایک سوٹ دے کے سمجھتیں کہ حق تو ادا کر دیا ہے اب کاہے کا احسان جبکہ میں اس مکمل فیملی میں خود کو بہت ہی اجنبی محسوس کرتی دن میں کئی بار جیتی کئی بار مرتی۔ دو گلی چھوڑ کے تایا کے بیٹے رہائش پذیر ان بھائیوں سے بڑے تھے، انکم ٹیکس میں بیسویں گریڈ کے آفیسر تھے خوشی غمی کے علاوہ ساس سسر کو اکثر سلام کرنے آجاتے تھے۔ ان کے اپنے اماں ابا ایک ایکسیڈنٹ میں چل بسے تھے سو چاچا چاچی کو ہی اپنا بڑا بزرگ سمجھتے تھے پندرہ، بارہ اور نو سال کے ان کے تین بچے تھے جو میرے ساس سسر کو دادا دادی بلاتے تھے۔

بھابھی بیگم کینسر سروائیور تھیں لیکن خطرے کی گھنٹی بج چکی تھی آگے کوئی گارنٹی نہیں تھی۔ کبھی ان کی طبعیت اونچ نیچ پہ مائل ہوتی تو ساس امی مجھے دوڑاتیں کی جاؤ ذرا بھاگ کے پرہیزی کھانا بنا کے دے آؤ۔ کوئی مدد چاہئے ہو تو کر دینا ہم بڑے ہیں پاس رہتے ہیں ہم نہیں دیکھیں گے تو کون دیکھے گا؟ ارے نگین کی ساس اللہ جنت نصیب کرے مجھے بڑی بہن ہی سمجھتی تھیں ہم ہر خوشی غمی میں ایک ساتھ جایا کرتی تھیں، لو جی ساس کی محبت کا یہ مول بھی مجھے ہی کارکن بن کے چکانا پڑتا۔

ماں کی بیماری سے سہمے سہمے بچے مجھ اوتری نکھتری کو بڑے اچھے لگتے تھے، میں جاتی تو ان کے بھی کئی کام نمٹا آتی میری پیاسی مامتا کو بھی تھوڑا سا قرار مل جاتا۔ دوسرے نمبر کے جیٹھ کی تینوں بیٹیاں تھیں بیٹے کی بڑی خواہش تھی ان کو، سنبھالنے کا قرعہ فال بھی میرے نام ہی نکلنا تھا سو چپکے سے نکل آیا۔ مجھے پھر آیا بنا کے بھیج دیا گیا سیزیرین ہونا تھا ڈاکٹرز کے ساتھ میٹننگز، الٹرا ساؤنڈز اور ڈیٹ کی کنفرمیشن احتیاط و آرام سب کچھ بڑی تیاری سے چل رہے تھے میرے لئے کچھ بھی نیا نہیں تھا۔

ملازمین سے کام لینا، کک کو ہدایات دینا، بچیوں کو دیکھنا اور سنبھالنا سب مل کے مجھے اچھا خاصا تھکا دیتے پھر گاہے بگاہے بھابھی کو بھی دیکھنا پڑ جاتا تھا۔ آخری الٹرا ساؤنڈ نے بیٹے کی خوشخبری دے دی تھی بس اب تو بھابھی سے اپنا آپ سنبھل ہی نہیں رہا تھا پاؤں زمین پہ نہ پڑتا۔ بھائی جان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ کس طرح دورانیے کی تمام تکالیف خود پہ لے لیں، اس بے خودی میں بھابھی کا آدھا بوجھ مجھ پہ لاد دیتے۔

بھابھی کو اٹھانا، بٹھانا اور ٹانگیں سیدھی کروانا، کروٹ دلوانا سب کچھ خاصا تھکا دینے والا تھا اور میں کوئی پروفیشنل نرس نہیں تھی لیکن اس بار بھابھی بیٹا جمنے جا رہی تھیں تو یہ نخرے بنتے تھے۔ بعض دفعہ جیٹھ حد کر دیتے جیسے بھابھی بچہ پیدا کر کے میرے اوپر بھی احسان کر رہی ہوں۔ شکر شکر کر کےمقررہ ڈیٹ پہ بیٹا ہوگیا بھائی جان کا بس نہ چلتا کہ بھابھی کا مرہم بن جائیں یا پھر انکی جگہ خود لیٹ جائیں۔

اتنے لاڈ اٹھاتے کہ اپنے شوہر کی بے مہری یاد کر کے میری آنکھیں بھیگ جاتیں اور بانجھ عورت نظر لگ جانے کے ڈر سے کمرہ چھوڑ دیتی۔ چھلہ پورا ہوا تو بے تاب دادا دادی کو پوتے کی زیارت کروانے کے لئے ہری پور سے لیہ لایا گیا۔ تھکی ہوئی بھابھی کو سنبھالے میں بھی پیچھے پیچھے تھی، بھابھی ناز سے قدم اٹھاتیں داخل ہوئیں اور تھک کے بیڈ بھی ڈھیر ہوگئیں۔

خیر بتانے کا یہ مقصد تھا کہ میں بیچ میں پڑا راستے کا پتھر تھی جسے ضرورت ہوتی ٹھوکر سے ادھر ادھر لڑکھا کے اپنی راہ سیدھی کر لیتا میری رضامندی کی ضرورت تھی نہ اہمیت مجھے سرجھکا کے بس اوپر نیچے سر ہلانا تھا کیونکہ میرا شوہر کما کے نہیں لاتا تھا دو روٹی اور دو جوڑوں کے لئے مجھے سب کی چاکری بھی کرنی تھی اور طعنے بھی سہنے تھے۔

Check Also

Tik Tokers Ki Aag

By Asif Mehmood