1.  Home/
  2. Zaara Mazhar/
  3. Purani Muhabtain, Purani Sharabain

Purani Muhabtain, Purani Sharabain

پتہ نہیں کیوں زندگی میں جب جب سکون کی دعاؤں کی ضرورت ہوتی ہے انسان بچہ بن کے ماں کی گود میں پناہ ڈھونڈتا ہے۔ ایک بار نہیں بلکہ بار ان رستوں پہ چلنے کی خواہش ہوتی ہے جن پر سے چل کے ہم موجودہ منزل تک پہنچے تھے اور ماں کی گود تو ہر انسان کا انرجی ڈرنک ہوتی ہے۔ شائد انسان کی فطرت میں احسان فراموشی نہیں ہے زیر بار رہتا ہے اسی لئے مڑ مڑ کے پچھلی سیڑھیاں گنتا رہتا ہے۔ پرانے رستوں کو پرانی محبتوں کو کھوجنے کی خواہش رکھتا ہے۔ پرانے رستوں میں پرانی شرابوں جتنا نشہ ہوتا ہے۔

ہماری زندگی سڑکیں ماپتے گزری ہے اور میکے کی سڑکیں، گلیاں اور چوبارے تو بار بار بلاتے ہیں چاہے آپ جنت میں ہی رہتے ہوں۔ آپکی مادر علمی بھی ماں جیسی مہربان گود کا درجہ رکھتی ہے۔ جب گاڑی شہر کی حدود میں داخل ہو جاتی ہے تو میں چوکنا ہوکے بیٹھ جاتی ہوں میری پلکیں رستوں پہ سجدہ ریز ہو جاتی ہیں میں ایک بھی منظر ایک بھی قدم آنکھوں سے اوجھل نہیں کرنا چاہتی نظریں رستوں کو چومتی جاتی ہیں اور گلے میں آنسوؤں بھری نمی گھل جاتی ہے ماں کے گھر جانے والے راستے میں ہم ماڈل ٹاؤن والا شارٹ کٹ استعمال کرتے ہیں یہاں سے میرا سکول گورنمنٹ گرلز ہائیر سکینڈری سکول نمبر ون آتا ہے ۔

میری نظروں نے اپنے ادارے کا طواف کرنا ہوتا ہے۔ اسکے آگے سے گزرتے وقت ہم گاڑی کی رفتار ممکن حد تک رینگنے جتنی کر لیتے ہیں تاکہ زیارت کا زیادہ وقت مل سکے سکول کے گیٹ سے متصل قیوم بھائی کا بک ڈپو تھا جہاں صبح اور چھٹی کے وقت اس قدر رش اور شور ہوتا تھا کہ اللہ کی پناہ چھٹی کے وقت ایک ابلے بھٹوں والا ٹھیلہ جو اوپر تک بھرا ہوتا تھا منٹوں میں چٹ ہوجاتاان بابا جی جیسا بھٹہ اور مسالہ پھر کھانے کو نہیں ملا تب برگر اور پیزہ کا فیشن نہیں تھا ایک بابا جی چاٹ اور دہی بڑے کی ریڑھی جماتے تھے پتہ نہیں اب کن دنیاؤں کے باسی ہوں گے۔

سکول کی عظیم الشان عمارت کے اندر سے علم کے کروڑوں دئیے روشن ہوئے ہوں گے جو اب دنیا بھر کو کہیں نہ کہیں اپنی ضیاء پاشی سے منور کر رہے ہوں گے۔کئی بار خواہش ہوئی کہ اندر جاکے دیکھوں قائداعظم اور علامہ اقبال کی بڑی بڑی تصاویر ویسے ہی لگی ہیں۔ اسمبلی ابھی بھی ویسے ہی اسی گراؤنڈ میں ہوتی ہے یا ہال میں ہونے لگی ہے۔ میرے سکول کی تمام استاد اپنے اپنے اسٹائل اور باوقار انداز میں سکول کے طویل برآمدوں میں چلتی نظر آتی ہیں۔ استادی بھی کیسا پیغمبرانہ پیشہ ہے نسلوں کو سنوار دیتا ہے۔

مجھے اپنی کلاس کی ایک ایک لڑکی کا نام یاد آتا ہے اسکی یونیفارم اور سٹائل یاد ہے تقریبا سو کی تعداد تھی نائنتھ A کے سیکشن میں کہاں کہاں لڑکیاں بیٹھتی تھیں مس ہاشمی ہماری کلاس ٹیچر تھیں اور ہم سات سہیلیوں کا گروپ عین ٹیبل کے آگے والی ڈیسک پہ ڈٹ جاتا تھاٹن ٹن پریڈز کے ختم ہونے اور دوسرے کے شروع ہونے کا گجر کانوں میں بجتا ہے۔ درجہ چہارم کا ملازم باتونی غلام رسول انپڑھ ہونے کے باوجود ایک سیکنڈ اوپر نیچے نہیں ہونے دیتا تھا دھوتی کرتا سردی گرمی میں اس کا یونیفارم اور گھر کا لباس بھی ہوتا تھا۔ اسکی سالخوردہ سائیکل بریک میں جس روز چنچل لڑکیوں کےہتھے چڑھ جاتی غلام رسول کی حالت غیر ہوجاتی وہ لڑکیوں سے بچانے کے لئے پیچھے پیچھے بھاگتا رہتا آدھے گھنٹے میں ہلکان ہوجاتا زچ ہو کے کسی میڈم کو شکایت کر دیتا لڑکیوں کو سٹاف روم میں بلا کے خوب کھنچائی ہوتی۔

چند دن سکون رہتا پھر اس کھنچائی کا اثر ختم ہوجاتا اور شرارتی لڑکیوں کا کوئی اور ٹولہ پھر سائیکل اڑا لیتا۔ سکول سے بےتحاشہ خوبصورت اور ناقابل فراموش پانچ برسوں کی یادیں بندھی ہیں جو قدم قدم پہ دامن تھامنے کو تیار ہوجاتی ہیں لیکن ہمیں گزر جانا ہوتا ہے اسکول کے آگے سے گھوم جائیں تو گورنمنٹ اسلامیہ کالج کی طویل عمارت کی فصیلیں شروع ہو جاتی ہیں جو دو طرفہ سڑک کا احاطہ کرتی ہیں کبھی بھائیوں کا کالج تھاسب بہت اچھا لگتا ہے وہ تمام استاد جن سے میں نے ایک حرف بھی سیکھا میری تحریروں میں زندہ ہیں بولتے ہیں بلکہ مہکتے رہتے ہیں اور بچھڑی ہوئی کئی کلاس فیلوز فیس بک کی دنیا میں ہی دوبارہ مل چکی ہیں۔ اگرچہ پاکستان سے نکل کے پوری دنیا میں پھیل چکی ہیں لیکن بستی تو اسی گولے میں ہیں سو علیک سلیک بھی ہو ہی جاتی ہےپرانی دوستوں میں بھی وہی پرانی شراب کا مزہ رچا بسا ہے۔

Check Also

Haji Sahib Vaccinevi

By Mahmood Fiaz