Thursday, 30 June 2022
  1.  Home/
  2. Zaara Mazhar/
  3. Anol Naal

Anol Naal

شادی اور جاب کی اپائنٹمنٹ ایک ہی ہفتے میں شروع ہو جائیں کم ہی سنا ہو گا شادی اور جاب کا پروبیشن ایک ساتھ شروع ہو جانا افتاد ہی ہوتا ہو گا۔ نیا شہر، نئی کمپنی، نیا گھر، نئے لوگ۔ سب کو اپنی لائف میں آپریٹ کرنا ہوتا ہے یا جاب قابو میں کرے یا سسرال۔ لیکن ہماری خطروں کی کھلاڑی جنگجو بٹیا بھڑ گئیں۔ بہن بھائیوں کے لئے ہمیشہ ہی مثال قائم کی کہ مسلسل محنت سے دنیا فتح کی جا سکتی ہے اور قسمت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے چیلنچ کیا جا سکتا ہے۔

سوسن کی فکریں ان سے بالکل سوا۔

بٹیا اپنی گھر داری کے کاموں میں ہاتھ کب ڈالیں گی؟ جب کال کرو تکیے میں منہ دئیے سو رہی ہیں جاب ٹف ہے تھکاوٹ سے بولنے کو بھی جی نہیں چاہتا ماں۔ ایسی بھی کیا تھکاوٹ گولی مارو جاب کو۔ ہائے اماں جان یوں تو نہ کہیں بڑی محنت سے جی جان مار کے ڈگری لی تھی اب چولہے میں جھونک دوں۔ نہیں بھئی چولہے میں مت جھونکو چولہے کے آس پاس کسی شیلف پہ رکھ لو۔ نہ اماں جان اتنی ہلکی نہیں ہے اور جاب اتنے آرام سے مل گئی ہے تو یہ نہ سمجھیں کہ پلیٹ میں رکھ کے پیش کر دی گئی ہے۔

ایکڈمک دور کی آبلہ پائی گن لیجئے سوسن کو بہت کچھ یاد آیا بچپن، لڑکپن، پھر یونیورسٹی اور ہاسٹل لائف سب کچھ کتنا میکانکی تھا دن رات کی کوئی تخصیص نہیں جیسے لیبارٹری میں ایک روبوٹ تیار ہو رہا ہو۔ پھر اس سپیشل ماڈل میں سوسن کے دیسی معاشرت کے طریقے، طہارت کے اور غسل کے طریقے ڈاؤن لوڈ کرنا۔ نماز کی یاد دہانی کروانا۔ پیپرز کے دنوں میں موبائل کی گھنٹیاں بجا بجا کے جگانا اور رات کو بستر پہ دعائیہ شب بخیر۔ ماں بچے کی آنول نال کبھی نہیں کٹتی۔

مہندی کی صبح گھر میں سہیلیاں تقریب کی تیاری کر رہی تھیں اور بی بنو جاب کے لئے انٹرویو دے رہی تھیں۔ عین رخصتی کے وقت کمپنی کی اگلی کال تھی سر میری تو رخصتی ہو رہی تھی دلہنیا کا آنسو پونچھ کے جواب۔ اچھا اچھا آرام سے رخصتی کروائیں پھر بات کر لیں گے۔ ولیمے سے پہلے پھر اگلا انٹرویو۔ سوچتی ہوں کیسی مشکل شادی ہو رہی تھی۔ چند رشتے داروں کے منہ بن گئے ہمیں توجہ نہیں ملی۔

بیٹی کو گھر داری کی چھوٹی چھوٹی ٹپس بتانا کتنا انوکھا اور خوشگوار تجربہ ہے شائد اپنی گھر داری کی شروعات سے بھی زیادہ۔ سود سے زیادہ بیاج پیارا ہوتا ہے۔ لیکن اپنا تجربہ اپنی بیٹی میں منتقل کرنا بیٹی کو گود میں لے کے لوریاں دینے جیسا لگا۔ ہاتھ پکڑ کے پاؤں پاؤں چلنا سکھایا تھا زبان کو حرف اٹھانا سکھایا تھا۔

پرسوں رات کی طویل کال کے نتیجے میں کل بھری دوپہر میں بٹیا کی بے پناہ یاد آئی اتنی کہ یادوں کی روپہلی سی ریگزار بننے لگی سیڑھی کے قدمچے ایک ایک کر کے احتیاط سے نیچے کی طرف اتری تو آنگن میں گڑیا کا سنہرا سا بچپن اور لڑکپن آنکھ مچولی کھیل رہے تھے، جب تک اکیلی تھی ناراض ہو کے دروازے کے پیچھے چھپ جاتی تھی۔ مجھے بھی منا بھیا چاہئے۔ نہیں دو بھئیے چاہیئیں۔

فیڈر اور سری لیک سے آگے چھوٹی چھوٹی پتیلیوں میں اس کے لئے یخنی میں نرم غذائیں بنانا۔ دلیے اور سوجی کے حلوے کھلانے کے جتن کرنا، طویل گرم دوپہروں میں ڈیزائننگ کر کے منی منی فراکیں سینا اور کاڑھنا۔ ماں بچے کا وائرلیس کنکشن ایسا ہے کہ ساری ماؤں کو پتہ چل جاتا ہے کہ اس کے بچے کو بھوک یا پیاس لگی ہے، بچے کو پیٹ میں یا کان میں درد ہے یا بچہ پردیس میں پریشان ہے۔

پھر گھبرا کے ماں کو فون کھڑکانا۔

ہائے ماں بہت رو رہی ہے کیا کروں ابھی تو بول بھی نہیں سکتی کہ تکلیف کی جگہ بتا سکے، کاش اس کا درد مجھے لگ جائے۔

ماں کہتیں اگر روتے ہوئے کان پہ ہاتھ مار رہی ہے تو کان میں درد ہے رتن جوت سرسوں کے تیل میں جلا کے دو قطرے کان میں ڈال دو۔

پیٹ ہلکا سا دبا کے دیکھو اگر زیادہ روئے تو سمجھو پیٹ میں درد ہے ہاتھ میں سرسوں کا تیل لگاؤ چولہے پہ اجوائین جلاؤ اور اجوائین کا گاڑھا دھواں تیل والے ہاتھ میں پکڑ کے پیٹ کی مالش کرو درد جاتا رہے گا سکون سے سو جائے گی۔

گلے میں درد ہو تو پان کا پتہ نیم گرم کر کے گلے پہ تین چار گھنٹے باندھ دو تکلیف رفع ہو جائے گی۔

قبض ہو رہی ہے تو پان کی ڈنڈی پہ سرسوں کا تیل لگا کے انیما کرو۔

چڑچڑا سا زکام ہو رہا ہے سرسوں کے تیل سے کنپٹیاں ملو۔

بچہ تھک بھی جاتا ہے ٹانگیں دبا دیا کرو، نہلا دو آرام سے سوتی رہے گی۔ ماں جب تک حیات ہے سکھاتی رہتی ہے۔ چار بچوں پہ یہ سب اور ایسے کئی ٹوٹکے آزماتے تمام کے تمام ازبر ہو گئے۔

ABCسکھاتے سکھاتے

۔ Baba black sheep

اور

۔ I sent a latter to my mother

جیسی رائمز جھوم جھوم کےرٹوانا۔ الف، با، تا کی آوازیں نکلواتے گڑیا کب سوسن کی ڈائریوں پہ چنگوٹھیاں مارنے لگی پتہ ہی نہیں چلا۔ اب دھان پان سی سوسن کا امتحان شروع ہوا۔ کرالنگ کرتے کرتے کچن ویسٹ تک پہنچ جاتی۔ ڈریسنگ ٹیبل کی ہر آئٹم کا پوسٹ مارٹم کر ڈالتی، سب سامان درازوں میں بند ہو گیا۔ تمام سوئچ بورڈ ٹیپ سے ڈھک دئیے۔ آم کے پیڑ تلے اور کچن کی دہلیز میں جھولے لٹک گئے۔

کوکنگ کرتے ہوئے شیلف پہ بٹھا کے کلمے اور سورتیں یاد کروانا۔ ٹیبلز رٹوانا۔ سب کتنا مصروف رکھتا تھا۔ دل میں یہ احساس کہ ربّ نے ایک جیتا جاگتا لوتھڑا میرے ہاتھوں میں رکھا ہے اور جبلت میں چاک اور کوزہ گری کا ہنر دیا ہے دین بھی بتانا ہے اور دنیا بھی فتح کرنی ہے، معاشرے کو ایک کارآمد فرد دینا ہے، معاشرے پہ بوجھ اپاہج وجود نہیں ربّ کے آگے سرخرو ہونا ہے۔ پھر بچی کی زندگی میں کئی امتحان آئے۔ امتحان بچوں کا ہو لیکن نیندیں ماں کی ہی اڑتی ہیں۔

سلو، میڈیم، ہائی، لاسٹ لو فلیم زندگی انہی شعلوں سے عبارت ہے۔ گاہے گاہے ہدایت اچھا بٹیا واشنگ مشین میں کپڑے بس ڈالنے اور نکالنے ہیں حوصلہ دینا۔ آج وہ پوچھ رہی تھی اماں دو پیالی سالن بنانا ہو تو آئیل کتنا ڈلے گا؟ ایکدم وہ وقت یاد آ گیا جب پانی کو مم اور روٹی کو توتی بولتی تھی۔ یو ٹیوب پہ ویڈیوز بھرے ہیں لیکن ایکدم نکمے اور اناڑی۔ ان کے ذائقوں میں رنگت تو ہے ماں کی مہک نہیں آتی خاندانی تراکیب کا گوگل تو ماں ہی ہوتی ہے۔ (جیسے ہم نے اپنی ماں کو لکھا تھا پون صدی کا گوگل ہیں۔)

پیاز گولڈن براؤن کر کے پانی کا چھینٹا دینا آئیل کی تپکن کم کر کے سیزلنگ کرنا ورنہ سالن کی رنگت نہیں کھلے گی۔

کیسے پتہ چلتا ہے مسالہ بھن گیا ہے۔ دم کیسے لگاتے ہیں۔ مقدار کے پانی میں آلو نہ گلیں تو کیا کریں؟ بٹیا کا مصروف سا لہجہ۔

فروزن سبزیوں اور گوشت کو ڈی فراسٹ کروں یا سیدھا کڑاہی میں ڈال دوں؟ چھنیٹے تو نہیں اڑیں گے تصور میں تشویش بھرا چہرہ ابھرا۔ اچھاسالن تو تیار ہوگیا لیکن اس میں آپکے ہاتھ کا ذائقہ نہیں آیا۔

بٹیا ماں کے ہاتھ کا ذائقہ تو ہمارے کھانوں میں نہیں آ پایا ہم ابھی تلک ماں کے ہاتھ کے تعاقب میں ذائقے تلاشتے پھرتے ہیں تمام عمر پریکٹس کی کہ ماں کے ہاتھ کی لذت حاصل ہو سکے۔ روز کی پریکٹس سے جو ذائقہ بنا وہ ہماری اولاد کے لئے پر لذت ٹہرا، ہم تو اپنے کھانوں میں ماں کا ہاتھ ڈھونڈتے ہی رہ گئے۔ ماں عملاً ریٹائیر ہو چکی ہیں مگر سوسن نے ماں کو اس کی بہترین تربیت اور تاحیات رہنمائی پہ شکریہ کا ایک خیالی خط ہونٹوں کی جنبش کی مدد سے لکھنا شروع کیا۔

۔ I wrote a letter to my mother

۔ on the way i dropped it

۔ the postman came and picked it in his pocket

۔ pocket

۔ pocket

Check Also

Wo Youn Aye Janaze Par

By Khadija Bari