1.  Home/
  2. Wasim Qureshi/
  3. University Life Aur Ehsas

University Life Aur Ehsas

یونیورسٹی کے دنوں میں ایک فیلو تھا جو اکثر ہی یہ کہہ کر انکار کر دیا کرتا تھا کہ "میں نے کھانا کھا لیا ہے"۔ ایک ہوٹل کی اکثر تعریفیں کرتا تھا کہ وہاں پر کھانا بہت معیاری اور ذائقہ دار ہوتا ہے تو میں بس اسی ہوٹل سے کھانا پسند کرتا ہوں۔ میں نے کئی مرتبہ جاننے کی کوشش کی کہ آخر وہ کون سا ہوٹل ہے؟ لیکن وہ ٹال مٹول سے کام لیا کرتا تھا۔ ایک دن میرے اصرار کرنے پر وہ مجھے اپنے ساتھ اسی ہوٹل پر لے گیا اور کھانا آرڈر کر دیا۔ اس دن اس نے شاید میری وجہ سے" آلو قیمہ" آرڈر کیا تھا۔

ہوٹل کا ماحول ایسا تھا کہ کھانا کھاتے وقت کئی بار دل میں خیال آیا کہ اٹھ کر بھاگ جاؤں۔ کھانے کی حالت یہ تھی کہ آلو قیمے سے اچھا بندہ پھیکا آملیٹ کھانے کو ترجیح دے مگر یہاں معاملہ کچھ اور تھا۔ میں سمجھ رہا تھا کہ وہ صرف اسی ہوٹل کا انتخاب کیوں کرتا ہے؟ میں کیوں کہ جاب بھی کر رہا تھا اور گھر سے بھی معاشی طور پر مضبوط تھا تو ہمیشہ اچھی جگہ یا ہوٹل کا ہی انتخاب کیا کرتا تھا۔ میں نے کھانے اور ہوٹل کی بہت زیادہ تعریف کی۔ تعریف کا حق بھی تھا کیونکہ میرا مقصد کچھ اور تھا۔

فیلو کو نیچا دکھانے کی کوشش یا نیت ہرگز نہیں تھی۔ جب ہم کھانا کھا کر جانے لگے تو اس نے ہوٹل والے کو پیسے نہیں دیے۔ میں بل ادا کرنے لگا تو ہوٹل والے نے فیلو کی طرف دیکھ کر کہا" بل ادا کر دیا گیا ہے"۔ اب میں سب کچھ سمجھ گیا تھا۔ در اصل یہ ہوٹل والا ادھار پر کھانا دیا کرتا تھا اور چارجز بھی مناسب تھے۔ اس فیلو کو گھر سے شاید چھ یا سات ہزار روپے ماہانہ آتے تھے جس میں ہاسٹل کا کرایہ، کھانا اور باقی اخراجات بھی شامل تھے۔

حالانکہ ہم سے تو چھ ہزار میں دس دن گزارنے بھی بہت مشکل تھے مگر وہ پورا مہینہ اسی میں گزارا کرتا تھا۔ خیر اس کے بعد میں نے اچھی طرح اپنے اس فیلو کے ساتھ ڈیل کی اور اسے اپنے ساتھ ہی جوڑ لیا۔ وہ اپنی گنجائش کے مطابق اور باقی ساری رقم میں ادا کر دیتا تھا یوں ہم تین ماہ تک اچھی جگہ سے اچھا کھانا کھاتے رہے۔ خیر بعد میں اس کی بھی ایک جاب ہو گئی اور اس نے مجھ سے بھی زیادہ حصہ ادا کیا۔

لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ آپ اگر سٹوڈنٹ ہیں گھر سے اچھے خاصے ہیں یا آپ کے پاس کوئی اور سورس موجود ہے تو اپنے ارد گرد نظر ضرور رکھیں۔ اپنے ایسے دوستوں اور فیلوز کا خیال کریں۔ زندگی اسی کا نام ہے۔ آج خرچ کیا گیا کل کام ضرور آئے گا۔ خود کو سوشل کریں، رابطے میں رہیں۔ صرف خود تک یا امتحان تک محدود مت رہیے۔ سوشل ہونے سے آپ بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں اور خاص طور پر قربانی دینے کا ظرف۔ حقیقت یہ ہے کہ اس سے بڑی مہارت اور کوئی نہیں ہے۔

ہم گیارہ قریبی دوست بعد میں ایک ہی فلیٹ پر ایک ساتھ رہے اور ایک دوسرے کی ہر مشکل میں ساتھ کھڑے رہے۔ الحمدللہ جو معاشی طور پر مضبوط تھے انہوں نے مل کر دوسرے دوستوں کا خیال رکھا یوں ہمارے دن خوب صورت احساس پر مبنی تھے۔

Check Also

Daira Balke Muhasra Mukammal Ho Gaya

By Saad Ullah Jan Barq