1.  Home/
  2. Wasim Qureshi/
  3. Talaq Larke Walon Ne Di Hai

Talaq Larke Walon Ne Di Hai

آج کل شادیاں اور رشتے بھی تجربات کے مراکز بن گئے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ہم لوگ نت نئے تجربات سے سیکھنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ ایک لڑکی کا رشتہ طے ہوا، لڑکا امریکہ میں مقیم تھا اور لڑکی پاکستان میں، لڑکے کی سوچ وہی مغربی اور لڑکی ابھی مشرقی خواتین والی سوچ کی حامل تھی۔ رشتہ طے ہونے کے بعد لڑکے لڑکی کا آپس میں رابطہ ہوا اور باہمی گفتگو کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

لڑکے نے باتوں باتوں میں کہہ دیا" شادی کے بعد تم بھی جاب کرو گی۔ اپنے اخراجات برداشت کرنا تمہاری ذمہ داری ہے اس میں میرا کوئی حصہ نہیں ہوگا۔ تم اپنی جاب کرو گی اور میں اپنی۔ شادی کے بعد تم اپنے گھر والوں سے کوئی رابطہ نہیں رکھو گی۔ جو یہاں کا نظام ہے تمہیں اسی کے مطابق چلنا ہوگا"۔ اب لڑکی کہتی ہے " بیوی کے تمام اخراجات برداشت کرنا شوہر کی ذمہ داری ہے۔ میں تو گھر بچے سنبھالنے کی خواہش رکھتی ہوں۔ مجھے جاب نہیں کرنی اور خاص طور پر ایک غیر ملک میں جہاں کے بارے میں کچھ نہیں جانتی"

لڑکی اور لڑکی کے والدین کو شاید یہ اندازہ نہیں تھا کہ لڑکا جہاں مقیم ہے وہاں کی سوچ اس میں اتر گئی ہے۔ بیوی بچوں کی تمام ذمہ داری قبول کرنے والی سوچ تو ہمارے ہاں پائی جاتی ہے۔ یہ تو مشرقی اقدار اور اسلامی تعلیمات کا حسن ہیں۔ مغرب میں جہاں عورت کو ہر طرح کی آزادی ہے، اس کے ساتھ عورت کو ایک مرد کی طرح کام بھی کرنا پڑتا ہے۔ اب لڑکی اور گھر والے پریشان ہو گئے کہ ہم سے غلط فیصلہ ہو گیا ہے۔

لڑکی ان باتوں کی وجہ سے شدید ڈپریشن میں مبتلا ہو گئی۔ چپ اور گم سم رہنے لگی۔ لڑکی کی خالہ نے مجھ سے رابطہ کیا۔ میں طلاق کے نام سے بھی کانپ جاتا ہوں۔ میں نے کہا" تھوڑا مزید وقت دیں دونوں کو، شاید کوئی راستہ نکل آئے "۔ جب ہر طرح سے آزما لیا تو فیصلہ ہوا کہ اس نکاح کو ختم کیا جائے۔ بعد میں ساری زندگی بیٹھ کر رونے سے اچھا ہے پہلے کوئی بہتر فیصلہ کیا جائے۔

لڑکی والوں نے لڑکے والوں سے بات کی تو جواب ملا" ٹھیک ہے۔ لیکن سب کو یہ کہا جائے کہ طلاق لڑکے والوں نے خود دی ہے۔ ورنہ ہم یہ نکاح ختم نہیں ہونے دیں گے"۔ اب لڑکی والے چاہتے تھے نہیں جب ہم خود ختم کر رہے ہیں تو ہم یہی بتائیں گے۔ اپنے کچھ وکلاء دوستوں سے مشورہ کیا تو معلوم ہوا" لڑکی کی عمر اٹھارہ سال یا اس سے زیادہ ہے تو تنسیخِ نکاح کا کیس دائر کیا جائے گا اور نکاح ختم ہو جائے گا۔ لڑکے والے رضا مند نہیں ہیں تو وکیل ان کے علم میں لائے بغیر بھی ختم کروا سکتا ہے"۔

میں صرف اتنا کہنا چاہوں گا کہ لالچ میں اندھے ہو کر والدین اس طرح کے رشتے طے کرتے ہیں۔ لڑکا غیر ملک ہے، سیٹل ہے، پیسے والا ہے۔ لیکن اس کی سوچ اور مائنڈ سیٹ کو مدنظر نہیں رکھا جاتا۔ شادیاں تجربے کا نام نہیں ہے۔ جو کچھ دیکھنے میں نظر آتا ہے ضروری نہیں حقیقت بھی وہی ہے بعض اوقات حقائق اس کے برعکس بھی ہوتے ہیں۔ اور ہاں طلاق لڑکے والوں نے دی ہو یا لڑکی والوں نے لی ہو لوگوں کو جینے کا حق دیا کریں۔ کسی کی ذاتی ز ندگی میں دخل اندازی کرنے سے بہتر ہے کہ آپ وہی وقت خود اپنی زندگی اور رشتے کو بہتر بنانے میں خرچ کریں۔

Check Also

Yun Dukano Par Zameeron Ki Farawani Na Thi

By Orya Maqbool Jan