Thursday, 02 December 2021
  1.  Home/
  2. Muhammad Sarfaraz/
  3. Dear Abdur Rehman

Dear Abdur Rehman

ڈیر عبدالرحمٰن

تمہارا خط ملا۔ مجھے تو تمہاری شکل بھی ٹھیک سے یاد نہیں۔ تم جب چھوٹے تھے تو تمہارا باپ (میرا بیٹا) تم کو مجھ سے ملانے ایک بار لایا تھا۔ ایک بات تو بتاؤ۔ تم یورپ میں پیدا ہوئے اوربڑے ہونے تک پاکستان نہیں آئے پھر تمہیں پاکستان کا درد کیوں ستارہا ہے؟

تم کو ایک قصہ سناتا ہوں۔ شاید تم کو تمہارے سوالات میں سے چند کے جوابات مل جائیں۔

تم نے بنی اسرائیل کا نام تو سنا ہوگا۔ جس قوم پہ حضرت موسیٰ ؑ مبعوث ہوئے تھے۔ موسیٰ ؑ کی قوم بڑی ناشکری تھی۔ تمہاری زبان میں بڑی ڈیمانڈنگ تھی۔ جب موسیٰ ؑ نے بنی اسرائیل سے کہا کہ عمالقہ سے جنگ کرو۔ تو ہمیشہ کی طرح بنی اسرائیل نے بہانے تراشنے شروع کر دئے۔ بولے کہ دشمن بہت طاقتور ہے ہمارا دماغ خراب نہیں ہے اتنے طاقتور دشمن سے لڑ کر اپنی جانیں دیں۔ موسیٰ ؑ نے لاکھ سمجھایا کہ اللہ کی راہ میں لڑو گے تو وہ بھی تمہاری مدد کرے گا۔ خود کو اکیلا نہ سمجھو۔

مگر بنی اسرائیل نے موسیٰ کے یدِ بیضا پر عذرنامہ رکھ دیا اور کہا کہ موسیٰ ؑ اور اُس کا خدا ہی جنگ کرے۔۔ ہم تو بس تماشائی ہیں۔۔ ہم تو بس تماشا دیکھیں گے۔۔

جانتے ہو پھر کیا ہوا تھا۔ سنو۔

حکمِ ربّی سے انہیں تیہ کے میدان میں قید کر دیا گیا تھا۔۔ وہ دن بھر راستہ طے کرتے اور شام آتی تو تھک کر سوجاتے۔۔ صبح سو کر اٹھتے تو اپنے آپ کو واپس اُسی جگہ پاتے جہاں سے صبح چلے تھے۔ اُس بھیانک بیابان کا نام بورن فیل تھا جو بنی اسرایئل کے لئے قید خانہ بن گیا تھا۔ (اگر ہوسکے تو موقع نکال کہ سورۃالمائدہ کی آیات 24۔ 26 کا مطالعہ کرو)۔

اس واقعے سے تم یہ تو سمجھ گئے ہوگے کہ اُلجھن ایک فرد کے لئے شاید عادت ہو یا بیماری۔

لیکن قوم کے لئے الجھن ایک عذاب ہوتی ہے جو قوموں کا گلا گھونٹ دیتی ہے۔ ہم بھی اسی عذاب سے دوچار ہیں۔

بہت کڑوا ہے لیکن سچ یہ ہے کہ ہم جاگتے ہیں انڈین ٹی وی لگا لیتے ہیں۔ گاڑی میں بیٹھتے ہیں انڈین میوزک لگا لیتے ہیں۔ کمپیوٹر اور موبائل پہ انڈین فنکاروں کے وال پیپر لگانا پسند کرتے ہیں۔ اور۔۔ بنتے پاکستانی ہیں

تمہیں پتہ ہے ہمارے ہاں چاول 100 روپئے کلو ملتا ہے اورسم کارڈ مفت ملتا ہے آپ ایمبولینس سے پہلے پیزا ڈیلیوری کرا سکتے ہیں، ہمارے ہاں جوتے ائر کنڈیشنڈ دکانوں میں بکتے ہیں اور سبزی فٹ پاتھ پہ پڑے کچرے کے ڈھیر کے پاس۔

ہم انفرادی سطح پہ تو اخلاقی گراوٹ کا شکار ہیں ہی۔ بیوروکریسی کی کرپشن، غیرواضح خارجہ پالیسی، رشوت ستانی اور حکومتوں کی خراب کارکردگی نے بحیثیت ِ قوم ہمیں ایک عادی شکایتی اور تنقیدی مزاج دے دیا ہے، ہم اچھے سیاستدان مانگتے ہیں مگر ہمارے پاس اچھا سیاسی نظام نہیں۔ ہم نے کبھی ووٹ ڈالتے ہوئے صحیح انتخاب کرنے کا نہیں سوچا۔

ہم اپنی افواج کو تنقید کا نشانہ بنانے سے کبھی نہیں چُوکتے لیکن پھر بھی چاہتے ہیں کہ وہ ہماری حفاظت بھی کرے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہماری افواج ہمیں کرپٹ سیاستدانوں سے بچائیں لیکن جیسے ہی وہ کرسی سے ہٹتے ہیں ہم انہیں ڈکٹیٹر اور غدار کہنے لگتے ہیں۔

ہم چاہتے ہیں کہ کوئی آگے بڑھے لیکن ہم بلا کے غیر یقین بھی ہیں فوراً ہی کیڑے ڈھونڈنے اور نکالنے لگتے ہیں۔

ہم تبدیلی چاہتے ہیں اور ہمیں تبدیلی کی ضرورت ہے مگر یہ نہیں سمجھتے کہ تبدیلی پہلے اندر ہوگی پھر باہر " To bring the change you have to change"۔ ہمیں حقوق چاہئے لیکن ہمیں علم ہی نہیں کہ کیا حقوق مانگ رہے ہیں اور ان حقوق کے کیا استعمال ہیں۔ ہم مسائل پہ گھنٹوں گفتگو کر کے وقت برباد کرتے ہیں لیکن اسی وقت میں کوئی تعمیری کام نہیں کرتے۔ ہم اپنے ملک میں انقلاب لانا چاہتے ہیں لیکن ہمیں پتا نہیں کہ " The revolution is not an apple that falls when it is ripe. You have to make it fall " (انقلاب کوئی سیب نہیں جو پَک کے گر پڑے۔ تمہیں اِس کو خود ہی گرانا پڑے گا)۔

اور سننا چاہتے ہو تو سنو۔ ابھی کچھ ہی دنوں پہلے کی با ت ہے، پاکستان ایک جنگ سے دوچار تھا اور پاکستانی ایک الجھن سے دوچارتھے کہ یہ کس کی جنگ ہے۔

ہم یہ بھی نہیں جانتے کہ یہ امریکہ کی جنگ تھی یا پاکستان کی۔ اگر یہ امریکہ کی جنگ تھی تو ہماری افواج قبائلی علاقوں میں کیا کر رہی تھیں؟ اگر یہ ہماری جنگ تھی تو امریکہ ہمیں ڈکٹیٹ کیوں کرا رہا تھا؟ مزید یہ کہ آخر ہم پہ ہر طرف سے ڈومور کا پریشر کیوں تھا؟ اگر یہ ہماری جنگ تھی توہم نے امریکہ سے بلین ڈالرز کیوں لئے؟

پھر یہ کہ امریکی ڈرون قبائلی علاقوں پہ کیوں حملہ آور تھے؟ ہماری فوجیں کیوں خاموش تماشائی تھیں؟

ہم روز صبح اٹھ کر ڈرون حملہ کی خبر پڑھتے تھے۔

رات تک کُڑھتے تھے۔ صبح اٹھتے تھے تو پھر ڈرون کی خبر ہوتی تھی، ہم کہیں بنی اسرایئل میں سے تو نہیں؟

کہیں ہم بھی اذنِ الٰہی سے کسی نامعلوم بورن فیل میں پھنسے ہوئے تو نہیں؟

ازطرف۔

اکیسویں صدی کا مسافر