Tuesday, 20 April 2021
  1.  Home/
  2. M Ibrahim Khan/
  3. America, Europe Aur China

America, Europe Aur China

امریکی پالیسی میکرز نے سوچا بھی نہ تھا کہ عالمی سطح پر اُن کے ملک کی بے مثال برتری کو چار پانچ عشرے ہی گزریں گے کہ کوئی طاقت ابھر کر سامنے آئے گی اور حقیقی مفہوم میں حریف بن کر ان کی بالا دستی برقرار رکھنا ناممکن بنا دے گی۔ چین نے تقریباً چار عشروں کی محنت شاقّہ کے بعد اب خود کو بڑے کھیل کے لیے تیار کرلیا ہے۔ عالمی سیاست و معیشت پر متصرف رہنے کی عادت نے امریکا اور یورپ کے اطوار بگاڑ دیے ہیں۔ اب چین سب سے بڑے اور انتہائی خطرناک حریف کے طور پر ابھرا ہے تو امریکا اور یورپ دونوں ہی پریشان دکھائی دے رہے ہیں۔ خاص طور پر امریکا کی بدحواسی کا گراف روز بروز بلند ہوتا جارہا ہے۔ امریکا نے یورپ کے ساتھ مل کر سات عشروں تک دنیا پر راج کیا ہے۔ یہ راج اِتنی جلدی خطرے میں پڑ جائے گا، یہ بات شاید امریکی پالیسی میکرز کے خواب و خیال میں بھی نہ ہوگی۔ نصف صدی سے بھی زائد مدت سے امریکا اور یورپ نے ملک کر اپنی طاقت میں اضافہ تو کیا مگر اِس سے زیادہ توجہ دوسروں کو کمزور کرنے پر مرکوز کی اور اس سوچ کا نتیجہ ہم دیکھ ہی رہے ہیں۔ آج دنیا بھر میں خرابیاں ہی خرابیاں ہیں۔ یہ خرابیاں اپنی طاقت برقرار رکھنے کے حوالے سے امریکا اور یورپ کی کوششوں کا نتیجہ ہونے کے باعث ان دونوں سے شدید نفرت کو بھی راہ دیتی آئی ہیں۔ آج دنیا بھر میں امریکا اور یورپ سے نفرت کرنے والوں کی تعداد اربوں میں ہے۔ اب یورپ نے اپنا راستہ بدل کر معاملات درست کرنے پر تھوڑی بہت توجہ دی ہے۔ چند ایک یورپی طاقتوں کو چھوڑ کر باقی تمام ریاستیں معقولیت کی راہ پر گامزن ہونے کو ترجیح دے رہی ہیں مگر امریکا اب تک ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ چین اب امریکا کے لیے سب سے بڑے حریف کی حیثیت سے ابھر کر سامنے آچکا ہے۔ ایسے میں امریکا کے لیے ناگزیر ہے کہ اُس کی طاقت کا دائرہ محدود رکھنے پر توجہ دی جائے۔ ڈھائی عشروں سے امریکا یہی تو کر رہا ہے۔ ایک طرف تو ہائی ٹیک اور دیگر اہم شعبوں میں برتری برقرار رکھنے کی کوششیں جاری ہیں اور دوسری طرف سیاسی و عسکری سطح پر مہم جوئی بھی جاری ہے تاکہ مختلف طریقوں سے چین اور اُس کے اتحادیوں کا گھیراؤ ممکن ہو۔ بعض خطوں میں امریکی مہم جُوئی اصلاً چین کا راستہ روکنے کے لیے ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے عہدِ صدارت میں پالیسی میکرز نے امریکا کو ہر حال میں اوّلیت دینے کی راہ پر گامزن ہونا پسند کیا۔ صدر ٹرمپ نے "سب سے پہلے امریکا" کا نعرہ لگایا۔ یہ نعرہ وقت کی ضرورت تھا کیونکہ امریکا نے دنیا بھر میں بہت زیادہ پاؤں پھیلالیے تھے۔ ایسے میں لازم تھا کہ اپنی صلاحیت و سکت کا نئے سِرے سے جائزہ لیا جائے تاکہ معاملات کو قابو میں رکھنا ممکن ہوسکے۔ بنیادی مسئلہ یہ تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک قدم آگے جاکر چین سے مسابقت کو امریکی خارجہ پالیسی کے محور میں تبدیل کردیا۔ یہ بڑی غلطی تھی کیونکہ چین کو بنیاد بناکر خارجہ پالیسی مرتب کرنے کا ایک مطلب تو چین کو حواس پر سوار کرنا تھا اور دوسرا مفہوم یہ بھی تھا کہ امریکا اب چین سے واضح خوف محسوس کر رہا ہے۔ چین کو خارجہ پالیسی کا محور بنانے کا ایک منطقی نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ امریکی پالیسی میکرز کے پاس بدحواسی پر مبنی اقدامات کے سوا آپشن نہ رہا۔ قومی سلامتی یقینی بنائے رکھنے کے نام پر چین کے خلاف غیر اعلانیہ پابندیوں کا راستہ چُنا گیا۔ تجارتی معاملات قابو میں رکھنے کے لیے چینی مصنوعات پر ٹیرف بڑھادیا گیا۔ امریکا تک چینی مصنوعات کی رسائی مشکل بنانے پر توجہ دینے کے ساتھ ساتھ چین کے ٹیلی کام سیکٹر سے متعلق اداروں کو بھی لگام دینا ضروری سمجھا گیا۔ ہائی ٹیک کے شعبے میں امریکی بالا دستی کے لیے اب خطرات سر اٹھا رہے ہیں۔ چین کے بڑے ٹیلی کام آپریٹرز کے ہاتھ پاؤں باندھنے کی تیاری کی گئی۔ کوشش کی گئی کہ چین کو سیمی کنڈکٹر چپس برآمد کرنے کی راہ روکی جائے۔ امریکی قیادت کی سر توڑ کوشش کے باوجود چین کو تجارت کے شعبے میں ایک خاص مقام تک محدود رکھنے کا خواب تاحال شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکا۔ عالمی معیشت، بالخصوص تجارت میں چین آج پہلے سے زیادہ طاقتور ہے۔

عالمی بینک نے ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ گزشتہ برس تک چینی معیشت کا حجم امریکی معیشت کے حجم کے 71 فیصد کے مساوی تھا۔ چینی معیشت کی شرحِ نمو 7.9 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ گزشتہ برس چینی برآمدات کا حجم کم و بیش 2600 ارب ڈالر رہا۔ چین امریکا تجارت میں چین کے لیے موافقت 2015ء کے بعد کی بلند ترین سطح پر ہے۔ امریکی جریدے وال سٹریٹ جرنل نے بتایا ہے کہ خدشات کے باوجود 2020ء میں چین میں براہِ راست بیرونی سرمایہ کاری کم و بیش 4 فیصد کی حد تک بڑھی ہے۔ معاشی امور کے تجزیہ کار کہتے ہیں کہ چین کے حوالے سے امریکا کی بدحواسی نے معاملات کو مزید الجھایا ہے۔ دو بڑی طاقتوں کو اپنے معاملات جتنی خوش اُسلوبی سے طے کرنے چاہئیں وہ دور تک دکھائی نہیں دیتی۔ امریکا نے برد باری اور معاملہ فہمی کی اہمیت تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے تصادم کی راہ پر گامزن رہنا پسند کیا ہے۔ چین نے اب تک تحمل کا دامن تھام رکھا ہے۔ امریکی قیادت کو بہت سے معاملات میں اپنے ملک کی کم ہوتی ہوئی طاقت کا اندازہ ہے۔ بعض معاملات میں روایتی انداز کی بین الریاستی شائستگی سے گریز کرتے ہوئے جارحانہ رویہ شاید یہ سوچ کر اپنایا جارہا ہے کہ شاید اِسی سے کوئی بہتری کی راہ نکل آئے۔

ایک بڑی الجھن یہ ہے کہ امریکا نے چینی معیشت کی رفتار گھٹانے پر تو خوب توجہ دی ہے، اپنی معیشت کی رفتار بڑھانے کو اب تک نمایاں ترجیح کا درجہ نہیں دے سکا۔ سب سے پہلے امریکا کی پالیسی بھی زیادہ کارگر ثابت نہیں ہوسکی۔ امریکا دنیا بھر کے معاملات میں اس حد تک مداخلت کا مرتکب ہوچکا ہے کہ اب اپنے آپ کو یکسر الگ تھلگ رکھنا ممکن نہیں رہا۔ محض عسکری برتری کی بنیاد پر خود کو الگ تھلگ رکھنا بھی ایک حد تک ہی ممکن ہے۔ سوال صرف عسکری پہلو کا نہیں۔ سیاست، معیشت، معاشرت، ثقافت اور دیگر بہت سے حوالوں سے بھی امریکا نے اِس حد تک پَر پھیلا رکھے ہیں کہ اب اپنے آپ کو سمیٹنا بڑے چیلنج کا درجہ رکھتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کو سب سے بڑے چیلنج کے طور پر لیا تو کچھ عجب نہ تھا۔ ہاں! چین سے نمٹنے کی حکمتِ عملی ترتیب دینے میں کوتاہی سرزد ہوئی۔ چین سے بخوبی نمٹنے کے معاملے کو امریکی خارجہ پالیسی کا محور بنانے کے تین بنیادی منفی نتائج سامنے آرہے ہیں۔ اول یہ کہ اب امریکا کو فیصلے ردِعمل کی بنیاد پر کرنا پڑیں گے یعنی کچھ بھی کرنے سے پہلے یہ دیکھنا ہوگا کہ چین کیا کر رہا ہے۔ گویا امریکا عمل کے درجے سے گر کر ردِعمل کے گڑھے میں پھنس جائے گا۔ دوم یہ کہ عالمی سطح پر یہ تصور تیزی سے پروان چڑھے گا کہ چین تیزی سے ابھر رہا ہے اور دنیا پر امریکا کی گرفت کمزور پڑتی جارہی ہے۔ سوم یہ کہ خارجہ پالیسی کیلئے چین کو محور بنانے کی صورت میں امریکا الگ تھلگ پڑتا جائے گا اور کئی شعبوں میں اُس کی بالا دستی بھی داؤ پر لگ جائے گی۔

معلوم تاریخ کے مختلف ادوار میں جب بھی کسی سپر پاور کے لیے خطرات ابھرے ہیں تب ویسی ہی بدحواسی دکھائی دی ہے جیسی امریکی قیادت چین کے معاملے میں دکھارہی ہے۔ ہر سپر پاور نے بہت سوں کو کچل کر اُن کی قبور پر اپنے محل تعمیر کیے ہوتے ہیں اس لیے کمزور پڑنے کی صورت میں جس بُرے سلوک کا سامنا ہوسکتا ہے اُس کا تصور بھی اسے ڈراتا رہتا ہے۔ امریکا اور یورپ نے ایک دنیا کو تاراج کرکے اپنی ترقی و خوش حالی یقینی بنائی ہے۔ یہ احساسِ جرم ہی ہے جس کے باعث چین کا ابھرنا اُن کے لیے ناک میں دم کرنے کا باعث ثابت ہو رہا ہے۔

Check Also

Kya Shaukat Tareen Maeeshat Ko Sahara De Payenge?

By Nusrat Javed