Thursday, 02 December 2021
  1.  Home/
  2. Ibn e Fazil/
  3. Raaz

Raaz

ایک غیر معروف علاقے میں چھوٹی سی سڑک پر ایک برگر بنانے والا تھا۔ سر شام جو اس کے پاس گاہکوں کی بھیڑ لگتی تو نصف شب تک چلتی، تاوقتیکہ وہ دکان بڑھا کر گھر جاتا۔ معیار کا سحر تھا یا کوئی نادیدہ کرشمہ، برگر کے طلبگاروں کی سواریوں کی یہ لمبی قطاریں سڑک کے اطراف یوں لگی ہوتیں کہ ٹریفک کے بہاؤ میں ہی رکاوٹ بن جاتی۔

بہت بار وہاں سے گذرتے جی میں خیال آتا کہ کبھی ہم بھی دیکھیں کہ کونسی گیدڑ سنگھی چھپا رکھی ہے ان صاحب نے کہ ارد گرد سڑک پرموجود دیگر دکانوں پر اکا دکا گاہک ہی ہوتے ہیں اور یہاں قطاریں لگی ہوتیں۔ ایک روز پھر ہم ٹھہر ہی گئے۔ دور گلی میں گاڑی کھڑی کرکے دکان پر پہنچے تو علم ہوا کہ ایک کاؤنٹر پر رقم جمع کروا کر ٹوکن لیا جاتا ہے۔ پھر کوئی آدھ گھنٹہ انتظار کے بعد برگر نصیب ہوتا ہے۔ رقم لینے والا مالک کا بیٹا تھا۔ اور مالک دکان کے اندر ہی ایک چھوٹی سی میز کے پیچھے گھومنے والی کرسی پربراجمان تھا۔

فرسٹ ہینڈ نالج حاصل کرنے کے مرضِ کہنہ کے ہاتھوں مجبور ہم مالک کے پاس چلے گئے۔ تعارف کروانے کے بعد براہ راست پوچھا کہ صاحب ارد گرد والے سب مکھیاں مار رہے ہیں آپ کا راز کیا ہے۔ مشکوک نظروں سے دیکھ کر بولا۔۔

کیوں باؤجی دکان پانی جے۔ (آپ بھی برگر کی دکان بنانا چاہتے ہیں)۔

میں نے ہنستے ہوئے بتایا کہ نہیں بزرگوں اللہ کریم کا بڑا کرم ہے اس نے فکروہوس سے بے نیاز کررکھا ہے۔ پندرہ منٹ کی گفتگو کے بعد اس نے جس راز سے پردہ اٹھایا، یقین کریں کہ بڑے سے بڑا معاشی ماہر بھی شاید وہاں تک راہنمائی نہیں کرسکتا۔۔۔ کہنے لگا۔۔

باؤ جی راز کوئی نئیں۔ بس جیہڑا سو روپیہ دیندا، ستر روپے شاپر وچ پاکے اوہدے ہتھ پھڑا دینا واں، باقی سارے ستر جیب وچ پاندے نیں گاہک نوں دیندے نیں تیہہ روپے۔

(باؤ جی راز کوئی نہیں، جو سو روپے کا سامان گاہک کو دیتا ہوں اس پر ستر روپے خرچ کردیتا ہوں اور تیس منافع رکھ لیتا ہوں، دوسرے برگر والے ستر اپنی جیب میں ڈالتے ہیں اور تیس کا مال گاہک کو تھما دیتے ہیں۔)

رقم کے نعم البدل تسلی بخش فراہمی کا، کاروبار کی ترقی کا یہ آفاقی اصول آب زر سے لکھنے کے قابل ہے۔ اور واقعی جب ہم نے برگر کھایا تو اس کی مقدار اور معیار دوسرے بنانے والوں سے دوگنا ہی تھا۔ یہی وجہ تھی کہ لوگ آدھ، پون گھنٹہ بھی انتظار کرتے تھے۔

استاد صاحب نے ایک روز کلاس سے پوچھا تھا کہ کاروبار کیوں کرتے ہیں۔ سب نے بیک زبان کہا آمدنی کے لیے، روزگار کے لئے۔ کہنے لگے ہاں سب یہی سمجھتے ہیں اور یہی کرتے ہیں۔ مگر ترقی انہیں ہی نصیب ہوتی ہے جو کاروبار مخلوق کی بھلائی کے لیے کرتے ہیں۔ تب ہم بہت ہنسے تھے، استاد صاحب کی بات سمجھ نہیں آئی تھی۔ لیکن اس روز اس برگر والے نے پریکٹیکل کرکے سمجھا دیا۔ قدرت نے ترقی اور آسودگی کھینچنے میں جمع کرنے میں، ہڑپ کرنے میں نہیں بلکہ بانٹنے میں تقسیم کرنے میں رکھی ہے۔