Thursday, 02 December 2021
  1.  Home/
  2. Ibn e Fazil/
  3. Peer Bhai

Peer Bhai

صوفی برکت علی بلا شبہ عصر حاضر کی بہت بڑی روحانی شخصیت ہیں۔ نہ صرف یہ کہ انکے زہد و تقویٰ، روحانی مراتب اور توکل علی اللہ کا ایک زمانہ معترف ہے بلکہ انکی چھوٹی بڑی درجنوں کرامات بھی زبان زدعام ہیں۔ ان کے مریدین اور روحانی تلامذ کی تعداد ہزاروں نہیں لاکھوں میں ہے۔

ان کے مریدین ایک خاص رنگ اور طرز کی ٹوپی پہنتے ہیں جو صوفی صاحب کے مرید ہونے کی گویا علامت ہے۔ اس مخصوص ٹوپی کی بدولت پیر بھائی دنیا کے کسی بھی کونے میں ایک دوسرے کو پہچان لیتے ہیں۔ اب یہ صوفی صاحب کی روحانی طاقت کا کرشمہ ہے یا ان کی تربیت کا اثر کہ انکے مریدین اجنبی ہونے کے باوجود آپس میں ایک دوسرے کی بیحد تواضع اور تکریم بھی کرتے ہیں اورحتی الامکان ایک دوسرے کوآسانی پہنچانے اور تکلیف رفع کرنے کی سعی بھی کرتے ہیں۔

صوفی صاحب کے ایک مرید نے اس حوالہ سے ایک واقعہ سنایا۔ کہتے ہیں کہ صوفی صاحب کے کسی مرید کوایک سرکاری محکمہ کے کسی بڑے آفیسر (غالباً سیکرٹری) سے کوئی کام تھا جو وہ کر کے نہیں دے رہا تھا۔ اس نے صوفی صاحب سے درخواست کی۔ اتفاق سے وہ آفیسر بھی حضرت کے مریدین میں سے تھا۔ آپ نے اسکے نام ایک رقعہ رقم فرما کر اس کو عنائت کیا۔

سائل نے جب وہ رقعہ اس آفیسر کو دیا تو اس پر جیسے ہیبت طاری ہو گئی، فوراً اپنی نشت سے اٹھا اور ماتحتوں کے پاس چلا گیا۔ جتنی جلد ممکن ہو سکتا تھا تمام ضروری امور نمٹائے اور آکر اپنے پیر بھائی کو خبر کی کہ اس کا کام ہو گیا ہے۔ سائل شاداں وفرحاں لوٹ گیا۔ لیکن اس ساری کشمکش میں وہ افسر سائل کی خدمت مدارت کرنا بھول گیا۔ حضرت صاحب کو جب علم ہوا تو سخت اظہار ناراضی فرمایا اور ایک عبوری حکم جاری فرمایا کہ میرا کوئی مرید اپنے پیر بھائی کے پاس کسی غرض سے آئے تو پہلے اس کی تواضع کرے پھر اس کی غرض پوری کرے۔ یہ روایت تب سے چلی آرہی ہے۔

یہ واقعہ سنا کرصوفی صاحب کا متذکرہ مرید ستائش بھری نظروں سے میری طرف دیکھتے ہوئے میرے توصیفی کلمات کا انتظار کر رہا تھا جبکہ میرے ذہن میں عجب ہی معاملات چل رہے تھے، میں سوچ رہا تھا کہ خدایا ہم کیسے مسلمان ہیں، ایک پیر کی تو اتنی تکریم کرتے ہیں کہ اس کی حکم عدولی کی مجال نہیں اور وہ جواصل پیرانِ پیر، جو راہبرِکامل حقیقی ہے، جو مصدقہ رحمت للعلمین ہے، جس کی برکت سے ہم مسلمان ہیں بلکہ جس کا وجود پاک ہی وجہ وجود کائنات ہے اس کو اتنی اہمیت بھی نہیں دیتے۔ کیا کبھی کوئی بڑا تو کجا چھوٹا موٹا افسر بھی" محمد" اسلم یا۔ رضوان"احمد" کا تعارف کروانے پر کرسی سے اٹھا کہ میرا پیر بھائی آیا ہے۔ کیا کبھی ہمارے دل میں کسی اجنبی مسلمان کی مدد کا جذبہ اس درجہ جاگزیں ہوا، کہ۔"بالیقین اصل پیر بھائی چارہ تو مسلمانی ہے"۔ جبکہ آقا نے حکم بھی دے رکھا ہے۔

المسلم اخوہ المسلم اور المومنون کنفس واحدۃ۔ اور تَرَی الْمُوْمِنِيْنَ فِی تَرَاحُمِهِمْ وَتَوَادِهِمْ وَتَعَاطُفِهِمْ کَمَثَلِ الْجَسَدِ اِذَا شْتَکٰی عُضْوٌ مِنْهُ تَدَاعٰی لَه سَائِرِ جَسَدِهِ بِالسَّهْرِ وَالْحُمٰی۔

"تم مومنین کو آپس میں رحمدلی میں اور باہمی محبت میں، آپس کی شفقت میں ایک جسم کی مانند دیکھو گے کہ جب جسم کا ایک عضو بھی دکھی ہوتا ہے تو سارا جسم بخار اور بیداری کے ساتھ تکلیف محسوس کرتا ہے"۔

میں نے تو میلادالنبی پر یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ ہر اجنبی مسلمان آج سے میرا پیر بھائی ہے۔ اس کی عزت و تکریم اور حاجت روائی میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھنی کہ شاید روزِ قیامت آقا کی نگاہِ الفت اور شفاعت نصیب ہو جائے۔

آپ بھی کوشش کیجیے گا۔