Thursday, 02 December 2021
  1.  Home/
  2. Ibn e Fazil/
  3. Kisht e Weeran Ke Gull Haye Aali

Kisht e Weeran Ke Gull Haye Aali

ٹی وائٹنرز سے وائٹننگ کریم تک اور بہترین عالمی معیار کی چاکلیٹ سے پہننے کے کپڑے اور جوتے کے چمڑے تک کچھ بھی ایملسیفائرز کے بغیر نہیں بن سکتا۔ ایملسیفائرز کیا ہیں؟ کسی بھی تیل یا روغنی شے کو پانی میں حل کرنے کی کوشش کریں، وہ حل نہیں ہوں گے۔ حتی کہ تیل اور پانی کو بلنڈر میں ڈال کر بھی مکس کریں چند منٹ بعد تیل اوپری سطح پر آموجود ہوگا۔ ایملسیفائرز ایسے کیمیائی مرکبات ہوتے ہیں جن کی مدد سے ہم تیل کو پانی میں یا پانی کو روغنیات میں حل کرسکتے ہیں۔

سویا لیسیتھین نامی ایملسیفائر چاکلیٹ میں کوکا بٹر اور چینی کے آمیزے کو یک جان رکھنے میں مدد کرتا ہے۔ اسی طرح مائیونیز میں انڈے کی سفیدی میں موجود پروٹین خوردنی تیل اور پانی کو آمیزے کو ملائم رکھتا ہے۔

صنعتی طور پر سینکڑوں اقسام کے ایملسیفائرز استعمال ہوتے ہیں۔ کپڑا رنگنے، چمڑے کو قابل استعمال بنانے، فصلوں پر کیڑے مار ادویات کو سپرے کرنے کے لیے پانی میں حل کرنے کی تمام ذمہ داری ایملسیفائرز کے سر ہے۔ اور پاکستان اپنی ضروریات کے لیے اربوں روپے کے ہزاروں ٹن ایملسیفائرز سالانہ درآمد کرتا ہے۔

ایملسیفائرز کی سب سے زیادہ استعمال ہونے والی جماعت ایتھوکسیلیٹڈ فیٹی الکحل ethoxylated fatty alcohol کی ہے۔ یہ پودوں سے حاصل ہونے والے تیل جیسے گری کے تیل، پام آئل کاسٹر آئل وغیرہ کے اجزاء کے ساتھ ایک خاص قسم کی گیس جسے ایتھائیلین آکسائیڈ کہتے ہیں کے تعامل سے بنتے ہیں۔ پاکستان میں آج تک ان ایملسیفائرز کی تیاری میں سب سے بڑی رکاوٹ ایتھائیلین گیس کی عدم دستیابی رہی۔

ایتھائیلین آکسائیڈ گیس ایتھائل الکحل سے بنتی ہے۔ اور ایتھائل الکحل جیسا کہ آپ جانتے ہیں گنے کی راب سے بنایا جاتا ہے جو کہ شوگر ملز کی بائی پراڈکٹ ہے۔ پاکستان میں چونکہ شوگر ملز کی فراوانی ہے یہاں ایتھائل الکحل بھی بکثرت بنتی ہے۔ مزید بننے کی گنجائش بھی موجود ہے۔ اسی طرح کاسٹر آئل بھی بکثرت پیدا ہوتا ہے مزید پیداوار کی گنجائش بھی ہے۔

اسی کے ساتھ ساتھ جانوروں کی چربی اور بنولہ سے کئی دوسرے فیٹی الکحل بھی حاصل کیے جاسکتے ہیں جن کی ایتھوکسیلیشن ethoxylation یعنی ایتھائیلین آکسائیڈ گیس سے تعامل کے بعد انتہائی بیش قیمت کیمیائی مرکبات تیار کیے جاسکتے ہیں جن کی نہ صرف وطن عزیز بلکہ دنیا بھر میں بھی بہت مانگ ہے۔

اس ضمن میں سب سے بڑی رکاوٹ ایتھائیلین آکسائیڈ گیس کی پیداوار کا نظام ہے۔ مجھے آپ کو بتاتے ہوئے بڑی خوشی ہورہی ہے کہ یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور کی کیمسٹری ڈیپارٹمنٹ کی چیئرپرسن اور ان کے ساتھی اساتذہ نے تین سال کی کوشش سے اپنے ڈیزائن کیے اور بنائے ہوئے پلانٹ پر ایتھائیلین آکسائیڈ گیس بنانے کا کامیاب تجربہ کرلیا ہے۔

گو کہ یہ ابھی بالکل ابتدائی سطح کی کامیابی ہے لیکن انشاءاللہ پاکستان کیلئے بہت بڑے صنعتی آغاز کا پیش خیمہ ثابت ہو گی۔

ہماری خواہش ہے اور کوشش ہوگی انشاءاللہ کہ ان کے پلانٹ میں ضروری ردوبدل کرکے اسے مکمل آٹومیٹک اور محفوظ بنادیا جائے۔ اور اس کے ساتھ مطلوب ایک ہائی پریشر ری ایکٹر بھی لگادیا جائے تاکہ جلد از جلد یہ لوگ اپنے تجربات مکمل کرکے پائیلٹ پلانٹ کی طرف بڑھ سکیں۔ انڈسٹری اور مارکیٹ کے محب وطن لوگوں سے میری درخواست ہے کہ ایسے قابل اساتذہ اور سکالرز کا دست وبازو بنیں تاکہ ہم مقامی وسائل سے ایسی بیش قدر اشیاء کی تیاری شروع کرکے زرمبادلہ بچائیں اور وطن عزیز کو خوشحال بنائیں۔