1.  Home/
  2. Ibn e Fazil/
  3. Bhala Ye Mumkin Hai?

Bhala Ye Mumkin Hai?

ایک جیسی دو عمارات بن رہی ہیں۔ ایک عمارت بہت زبردست طریقے سے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت بنائی جارہی ہے، اس کا نقشہ بنایا گیا ہے۔ پھر تعمیر میں ایک ایک اینٹ درست طریقہ سے رکھی گئی ہے۔ اینٹوں کو جوڑنے کے لیے ماہر کاریگروں کی خدمات لی گئی ہیں۔ اچھا سیمنٹ مطلوبہ مقدار میں ڈالا جارہا ہے۔ ہر طرح سے رکھ رکھاؤ کا خیال کرتے ہوئے تمام لوازمات پورے کرکے پایہ تکمیل تک پہنچتی ہے۔

دوسری عمارت میں کسی قسم کی کوئی منصوبہ بندی نہیں۔ کم تر درجہ کے کاریگروں نے بے دلی سے آڑھی ٹیرھی اینٹیں جوڑ رکھی ہیں۔ سیمنٹ اور سریا وغیرہ کی خریداری اور استعمال میں بھی بدعنوانی کا عنصر غالب رہا ہے۔ اب دونوں عمارتیں رنگ روغن کے مرحلہ پر ہیں۔ رنگساز سے یہ کہا جارہا ہے کہ وہ کسی طرح کوشش کرکے دونوں عمارتوں کو ایک جیسا بنادے، بھلا یہ ممکن ہے؟

اور اگر بالفرض وہ کسی طریقہ سے اوکھا سوکھا ہوکر ان کی ظاہری حالت ایک سی کربھی دے تو کیا وہ دونوں ایک سی ہوجائیں گی۔ کیا ان کی پائیداری اور حوادث زمانہ کے سامنے ان کی شکست وریخت کی رفتار ایک سی ہوگی، کبھی نہیں نا۔

بس یہی فرق ہے ایک باقاعدہ تربیت شدہ رکھ رکھاؤ والی نسل کی موٹیوشن میں اور ایک بگڑی ہوئی مقصدیت سے عاری وجہ وجود سے ناآشنا نسل کی موٹیوشن میں، نسلوں کی تربیت ان کی تعمیر ہے جو ایک مسلسل عمل ہے۔ سالہا سال کی توجہ اور محنت کا متقاضی جبکہ موٹیوشن ان کی تزئین۔ جو کبھی کبھار چاہیے بالکل ایسے، جیسے عمارات کو سال دوسال بعد رنگ وروغن کیا جاتا ہے۔

حقیقت یہ کہ ہم نے اپنی نئی نسل کی تربیت کا تردد سرے سے کیا ہی نہیں۔ نہ ہی انہیں بامقصد تعلیم سے ہمکنار کیا ہے۔ اب والدین کی بے توجیہی اور اساتذہ کی لالچ اور تن آسانی سے جو ایک غیر متوازن سوچ کی حامل غیر پیداواری فوج ہمارے سر ہے ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے موٹیوشنل سپیکرز حضرات ایک گھنٹہ کے لیکچر میں جادو کرکے اسے چینیوں یا یورپی نوجوانوں ایسا زبردست تربیت یافتہ، قانون پسند، محنتی اور بامقصد بنا دیں، بھلا یہ ممکن ہے؟

Check Also

Khutoot Ki Akhri Kitab

By Javed Chaudhry