Monday, 25 October 2021
  1.  Home/
  2. Hania Irmiya/
  3. Mobile Ka Istemal

Mobile Ka Istemal

کچھ دن پہلے مجھے ایک شادی کی تقریب میں جانے کا اتفاق ہوا۔ اول تو میں تقریبات میں شرکت سے ازحد گریز کرتی ہوں۔ ہجوم سے کترانے کی وجہ تو کبھی سمجھ نہ آ سکی۔ مگر اتنا ضرور کہ تقریب میں جانے کی بجائے مجھے گھر میں سونا زیادہ پسند ہے اب قارئین اسے میری آرام طلب فطرت بھی سمجھ لیں تو مجھے اعتراض نہیں۔ خیر تقریب میں کچھ دیر تو لوگوں سے سلام دعا ہوئی اس کے بعد میں ایک خالی میز پہ آ کر بیٹھ گئی میز کے ساتھ تقریباً دس کرسیاں تھیں اور ہم تین لوگ، لہذا کچھ دیر بعد دو لوگ ایک خاتون اور مرد بھی ہمارے ساتھ ہی آ بیٹھے ہمیں اعتراض نہ تھا کیونکہ وہ ایک مہذب جوڑا تھا ساتھ میں تقریباً ڈیڑھ سال کا ان کا بیٹا تھا۔

گھنٹے بعد اس خاتون نے اپنے بیگ سے بچے کے دودھ کا فیڈر نکالا اور جیسے ہی بچے کے منہ کے قریب لے کر گئی بچے نے فیڈر ہاتھ سے جھٹک دیا ماں کی گود میں وہ مسلسل دوپٹے سے الجھ رہا تھا جیسے ہجوم سے بےچین ہو اور آرام چاہتا ہو۔ ماں نے مسکراتے ہوئے اپنے شوہر کی طرف دیکھا۔ جیسے اسے بتا رہی ہو کہ اسے کیا چاہیے۔ شوہر نے چہرے پہ سنجیدگی برقرار رکھتے ہوئے جیب میں ہاتھ ڈالا۔ موبائل نکالا اور اس پہ دو تین بار انگلی سے سکرین کو ادھر أدھر گھمایا۔ اور یوٹیوب آن کر کے کارٹون والی نظم چلا دی۔ خاتون نے مسکراتے ہوئے پہلے شوہر کو دیکھا پھر میری جانب متوجہ ہو کر بولی۔ اس کی عادت بن چکی ہے بھوک چاہے جتنی مرضی ہو موبائل نہ ہو تو دودھ نہیں پیتا۔

جیسے ہی بچے کو موبائل ملا وہ پرسکون ہو گیا۔ اور موبائل میں ایسا مگن ہوا کہ فیڈر میں وہ کیا پی رہا ہے اسے اس سے غرض نہ تھی بلکہ اس کی اصل خوراک تو اسے موبائل سے مل رہی تھی اب تو نہ وہ ماں کے دوپٹے سے الجھ رہا تھا اور نہ ہی ہجوم سے بےچین ہو رہا تھا میں توجہ سے بچے کو مسلسل دیکھتی رہی حالانکہ میرا مسلسل دیکھنا اس کے والدین کو تھوڑا عجیب لگا مگر میری سوچ اس نکتے پہ رکی ہوئی تھی آخر اس عمر کے بچے کی موبائل میں دلچسپی کی اصل وجہ کیا ہے؟

اور بچوں میں موبائل کی دلچسپی کا یہ فقط ایک یہ واقعہ نہیں بلکہ اردگرد ہر جگہ ایک سا ماحول ہے بچے اسے کھلونے کے طور پر استعمال کرنے لگے ہیں اور یہ کھلونا آج کے دور میں تقریباً ہر گھر میں نظر آ رہا ہے بچے پہ ماؤں سے زیادہ موبائل کی گرفت ہے۔

اس کے علاوہ بھی ہم اردگرد نظر دوڑائیں تو ہر جا ہمیں ایک ہی کہانی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ چھے ماہ سے لے کے آپ کسی بھی عمر کے انسان کو دیکھ لیں مرد ہو یا عورت وہ موبائل میں مگن ملے گا۔ پاس بیٹھے شخص سے اسے ذرا برابر بھی دلچپسی نہیں۔ یہاں تک کہ ایک ہی گھر میں موجود افراد آپس میں کم اور سوشل اپیس پہ زیادہ ایکٹیو دکھائی دیتے ہیں۔ موبائل اور انٹرنیٹ نے اس حد تک انسانوں پہ اپنا جادو چلا رکھا ہے کہ اس کے ہوتے انسان تنہائی میں بھی خود کو تنہا محسوس نہیں کرتا۔ اور باہر کی دنیا یعنی پروفیشنل لائف میں تو یہ کسی معجزے سے کم نہیں۔ اول تو اس نے پروفشنلز کا سب سے بڑا مسئلہ یہ حل کیا ہے کہ اگر کسی جگہ پہ آپ بات کرنا پسند نہیں کرتے تو موبائل پکڑیں اور نیٹ سے کنیکٹ ہو کے باقی سب سے ڈسکنیکٹ ہو جائیں۔

کسی جگہ پہ بھی ہوں دفتری معلومات لمحے بھر کی تاخیر سے تمام افراد تک بذریعہ واٹس ایپ پہنچا دیں۔ ای میل/ فیکس نے خط و کتابت کے ذائقے کو بدمزہ کر دیا ہے۔ وائس نوٹ کے ذریعے اب ٹائپنگ کی جھنجھٹ سے بھی نکل جائیں اس کے علاوہ بہت سی یادوں کو موبائل کی آنکھ میں جب چاہیں اور جتنی دیر کے لیے چاہیں محفوظ رکھیں۔ خیر یہ تو تھا اس کا فائدہ مند استعمال۔ اس کے علاوہ بھی یہ جدید دنیا کی ضرورت کی سی حیثیت رکھتا ہے۔

مگر نوعمروں میں اس کی دلچسپی کی بڑھتی شرح خطرے کا الارم بھی ہے جسے ہم نظر انداز کرتے جا رہے ہیں کیونکہ یہ بہت حد تک بے راہروی کو بڑھاوا بھی دے رہی ہے۔ نئی نسل کی بہتر تربیت اور پرورش کے لیے اس کا متناسب استمعال بے حد ضروری ہے مگر لمحہ فکر یہ ہے کہ ہم اس سے متعلق نہ کچھ سوچ رہے ہیں اور نہ ہی کوئی قدم اٹھا رہے ہیں۔

Check Also

Akhri 20 Maah Ki Kahani

By Anjum Farooq