1.  Home/
  2. Dr. Ijaz Ahmad/
  3. Do Gaz Zameen

Do Gaz Zameen

من حیث القوم ہم سب ایسے ہی ہیں کہ مستقبل کے لئے، معاشرے کے لئے ہم کیا حصہ ڈال سکتے ہیں؟ یہ بات ہماری ترجیحات میں شامل ہی نہیں ہے۔ روز بروز آبادی کا اژدہام بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ زرعی زمین کو بہت تیزی کے ساتھ رہائشی کالونیوں میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ کوئی اتھارٹی ایسی ہے جو قوانین پر عمل درآمد کروا سکے؟ دیکھنے میں یہی آتا کہ آبادی کے تناسب سےقبرستان کے لئے جگہ مختص نہیں کی جا رہی۔ کیا ہم لوگ مرنا بھول گئے ہیں؟ نفسا نفسی کی دوڑ جاری ہے۔ ملک میں موجود پرانےقبرستان سب بھر چکے ہیں۔

سابقہ حکومت نے شہر خموشاں کے نام سے، قبرستان کے لئے جگہیں مختص کی تھی، جو کہ اچھی کاوش تھی۔ اس پر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔ جو بھی نئی سوسائٹی بنائی جائے اس بات کو ملحوظ خاطر رکھا جائے کہ، آئندہ کم از کم سو سال کے لئے وہ جگہ قبرستان کی ضروریات کے لئے کافی ہونی چاہئے۔ یہ صحیح ہے کہ، قیامت کے دن ایک ایک قبر سے ستر ستر مردےاٹھائے جائیں گے۔ ہماری بد قسمتی کہ قبضہ مافیا نے قبرستان کی جگہ کو بھی نہیں بخشا۔ قبرستان کی تنگی میں اس مافیا کا بھی ہاتھ ہے۔ بہت ضروری ہے کہ، قبرستان کی اصل جگہ کو بحال کیا جائے۔ قبرستان کو ان لوگوں کے چنگل سے آزاد کروایا جائے۔

پرانے قبرستان میں اب نوبت یہ آ گئی ہے کہ، گورکن حضرات کہتے ہیں کہ اپنے کسی عزیز کی قبر کی نشان دہی کی جائے، اسی قبر کے اوپرقبر بنا کر دی جائے گی۔ بات یہاں پر ختم نہیں ہوتی۔ دفنانے کے لئے تگڑی سفارش یا پھر بھاری رشوت کے عوض قبر کے لئے جگہ ملتی ہے۔ اور اس بات کی قدر اب معلوم ہوتی ہے کہ، وہ لوگ خوش نصیب ہیں جن کو مرنے کے بعد دو گز زمین نصیب ہو جائے۔ یہاں پربہادر شاہ ظفر کایہ شعر ذہن میں آگیا

کتنا ہے بد نصیب ظفر دفن کے لئے

دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں

یہ تو سب قسمت کے کھیل ہیں، پر ہمارے ہاں جیسے جیسے آبادی بڑھتی جا رہی ہے، تنگی دامن کا احساس بڑھتا جا رہا ہے۔ مرنا سب نے ہے، سب ادھر رہ جانا ہے۔ یہ جو ہم لالچ میں اندھا دھند زمین کو بیچ رہے ہیں، خدارہ تدفین کے لئے بھی جگہ وافر چھوڑ دیں۔ آنے والی نسلیں دعائیں دیں گی۔ اگر ایسا ممکن نہیں تو ریاض الجنتہ کی طرح، کچھ مخصوص وقت کے بعد قبرستان کو ہموار کر دیا جائے تا کہ نئی قبر آسانی سے تیار ہو سکے۔ ویسے بھی کہتے ہیں، مرنے کے بعد قبر پر پچاس سال کے بعد کوئی ہاتھ اٹھانے والا نہیں جاتا۔

اس بات کی تصدیق شیخ رشید صاحب کے ایک انٹر ویو سے بھی ہوتی ہے، کہ ملک کے ایک وزیر اعظم جوہم پر عنایت کئے گئے، جن کے والد کی قبر کا پتہ نہ چلنے پرکسی اور کی قبر پر پھولوں کی چادر ڈال کر فاتحہ خوانی کروائی گئی تھی۔ ہم سب کے لئےایک سبق آموز ہے۔ ہمیں قبرستان جانے کا حکم ہے۔ ہمیں جاتے رہنا چاہئے تا کہ انسان کو اپنا مرنا یاد رہے، یہ جو ہم انا کے ہاتھوں اپنوں کے حقوق صلب کرتےہیں، اس سے بچ سکیں۔ ضمناََعرض ہے، گوروں کے قبرستان میں آپ کو ایک ترتیب نظر آئے گی۔ کیا وجہ ہےکہ ہم اس ترتیب سے کوسوں دور ہیں؟

دفنانے کےکے لئے جب چارپائی لیکر جاتے ہیں، گزرنے کے لئے جگہ ناکافی ہوتی ہے اور قبروں کی بے حرمتی کے مرتکب ہوتے ہیں۔ ہمیں آئندہ کے لیئےنئے قبرستان بناتے وقت ایک خاص ترتیب کو ملحوظ خاطر رکھنا چاہئے۔ قبروں کو نمبر الاٹ کیا جائے، اس نمبر کے حوالے سے اس قبر کی پوری تفصیل ریکارڈ پر موجود ہونی چاہئے، تا کہ آئندہ کوئی باہر سے لائے گئے وزیراعظم کو کسی اور کی قبر پر فاتحہ خوانی نہ کرنی پڑے۔ اس کے ساتھ ساتھ قبرستان میں لا ئیٹ کا انتظام بھی ہو نا چاہئے۔

اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے کہ قبر پر لواحقین لازمی، جگہ کی مناسبت سے ایک پودا ضرور لگائے۔ اور اس کی دیکھ بھال بھی کریں۔ قبرستان کے ساتھ شجر ممنوعہ جیسا سلوک نہیں کرناچاہئے۔ نشئی حضرات، جرائم پیشہ عناصر اور کتوں کی موجودگی سے پاک کیا جائے۔ لواحقین سے ایک اور گزارش ہے کہ، کتبہ کی تنصیب میں اسلامی یا قرآنی آیات نہ لکھی جائیں۔ قبرستان میں ان شعائر کی بے حرمتی ہوتی ہے، ہمیں ان سے اجتناب کرنا چاہئے۔

Check Also

18 May 2013 Se 18 May 2022 Tak

By Dr. Rabia Khurram