Thursday, 30 June 2022
  1.  Home/
  2. Dr. Abrar Majid/
  3. Qaumi Masail Aur In Ka Hal (2)

Qaumi Masail Aur In Ka Hal (2)

انسان کی پہلی ضرورت صحت ہے جو اس کی تمام تر توانائیوں کی ضامن اور ملکی ترقی کی بنیادی شرط ہے۔ اس بارے کسی بھی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے اور سب کو مفت اور برابر سہولیات ملنی چاہیں۔

زراعت اور خوراک کے شعبہ جات میں ایمنسٹی سکیم متعارف کروایں تاکہ سرمایہ کاری کا رخ پاکستان کی خود کفالت کی طرف بڑھے اور پاکستان کی شہری اور دیہی آبادی میں بھی توازن کو قائم کیا جاسکے۔

نظام انصاف کسی بھی ریاست کے اندر ہر قسم کے تحفظات اور حقوق کی پاسداری کا ضامن ہوتا ہے اور ملکوں کے مالی اور سیاسی استحکام کا بھی بہت بڑا سبب ہوتا ہے۔ اس کے لئے بھی اصلاحات اور انتظامات ہونے چاہیں۔

عدالت عظمیٰ سے انتظامی امور میں دلچسپی کے تاثر کو ختم کرنے کے لئے آئینی تشریحات اور حکومتی معاملات کے لئے ایک بنچ مختص ہونا چاہیے جو سنئیر ججز پر مشتمل ہو اور اس کی تشکیل جوڈیشل کمیشن کرے تاکہ خدشات کو دور کیا جاسکے۔

مالی ناانصافیوں اور بے ضابطگیوں کو روکنے کے لئے خود کار ٹیکنالوجی پر منحصر نظام ترتیب دینا چاہیے جس پر عوام کو دسترس حاصل ہو تاکہ شفافیت اور عوامی جوابدہی کو یقینی بنایا جاسکے۔ جس سے اس طرح کی ثقافت کو قائم کیا جا سکے جس میں سرکاری ملازمین کے اندر یہ احساس اجاگر ہو کہ وہ عوامی خدمتگار ہیں اور عوام کو یہ تاثر اور اعتماد اور اطئمان ملے کہ حکومتی ادارے ان کی فلاح کے لئے کوشاں ہیں۔

ہمارے نظام تعلیم نے ہمارے اندر نظریاتی اور طبقاتی تقسیم کو جنم دیا ہے جس کے اثرات آج آپ کے سامنے ہیں کہ دین ہماری اخوت اور بھائی چارے کی بجائے تفرقہ بازی کا سبب بن گیا ہے۔ ہمارا شعور آگہی کے بجائے خود اعتمادی کے نام پر بداخلاقی اور بد زبانی کا موجب بن گیا ہے۔ ہمارا قومی جذبہ غیرت، حمیت کی بجائے منافقت اور بدتہذیبی کا شکار ہوگیا ہے۔ ہمارا علم اور علمی درسگاہیں جنہوں نے ہماری ترقی کا سبب بننا تھا ہماری نظریاتی اور طبقاتی تقسیم کا سبب بنتی جارہی ہیں۔ ان کو علم اور اساتذہ کی قابلیت کے اعتبار سے نہیں دیکھا جاتا بلکہ اسے دولت مندوں اور غریبوں کی پہچان کے طور پر سمجھا اور دیکھا جاتا ہے۔

اس خرابی کو بنیاد سے ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے جس کے لئے یکساں ںظام تعلیم کو صحیح معنوں میں لاگو کرنا ہوگا۔ پرائمری نصاب تعلیم اور تعلیم اداروں کو نجی تحویل سے آزاد کرانا ہوگا۔ اس پر حکومت کو جتنے بھی اخراجات اٹھانے پڑیں عمل کو یقینی بنانا ہوگا۔ سرمایہ داروں کو بنیادی تعلیم کے بجائے اعلیٰ تعلیم کی طرف راغب کریں۔ وہاں وہ اپنے کاروبار کی گنجائش ڈھونڈیں مگر بنیادی سطح سے لے کر سیکنڈری سطح تک کو ان کے چنگل سے نکالنا ہوگا اور دولت کے بلبوتے پر انسانی امتیاز کی سوچ کی بحرحال حوصلہ شکنی کرنی ہوگی جس کو میرٹ اور کارکردگی کی بنیاد پر ملازم پیشہ طبقہ کی ترقی کے عمل کو فعال کرنے سے ہی شکست دی جاسکتی ہے۔

قومی انسانی وسائل کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کی ضرورت ہے۔ ان کو قومی اور بین الاقوامی سطح کی ضروریات سے ہم آہنگ کرنا ہوگا۔ اس میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے زرائعے کو استعمال میں لایا جاسکتا ہے۔

سوشل میڈیا اس وقت حالات کے لئے ناگزیر ہوچکا ہے اورمعاشرے پر گہرے اثرات رکھتا ہے لہذا بہتر نتائج کے لئے مثبت کرداروں کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے جس سے عوام کی دلچسپی کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کے نقطہ نظر کو تبدیل کیا جائے۔ تعمیری ڈیبیٹ کے ماحول کو اجاگر کیا جائے تاکہ لوگوں کو حقائق سے آگاہی ہو۔ ان کی ضروریات کو مرکز بناتے ہوئے عوام کے روزگار کے گرد گھومتی مہارتوں کے متعلق تربیتی پروگرامز کو اجاگر کیا جائے۔ تاکہ عوام کی صلاحیتوں، توانائیوں اور وقت کے استعمال کو قیمتی بنایا جاسکے۔

ایک اور سب سے بڑا ہمارا مسئلہ جو تمام کے تمام تر مسائل کی بنیادی وجہ ہے وہ ہے عوام کا ملک و قوم کے ساتھ وابستگی کا فقدان۔ ابھی تک ان کے اندر اپنے ملک اور اس کے معاملات کے ساتھ دلچسپی لینے کا احساس ذمہ داری ہی پیدا نہیں ہو سکا اور جب تک پیدا نہیں ہوگا تب تک بہتری کی امید نہیں کی جاسکتی اور ایسی صورتحال میں مفاد پرست طبقے کا اس ملک و قوم کی تقدیر کے ساتھ کھیلنا اسی طرح جاری رہے گا۔

عوام کی سوچ کو قومی بنانے کے لئے حکومتی سطح پر کئی پروگرامز شروع کئے جاسکتے ہیں جس میں میڈیا کے زریعے آگاہی سے لے کر ان کو عملی طور پر ترقیاتی پراجیکٹس میں شامل کرنے تک کی حکمت عملی بنائی جاسکتی ہے۔ جس میں دیہی اور نچلی سطح پر عوام کو ترقیاتی منصوبوں اور ان کی مانیٹرنگ کے کام میں عملی طور پر شامل کیا جائے جس سے عوام کو دھوکہ دینے والے مفاد پرستوں کے ٹولوں کو عوامی امنگوں سے کھیلنے کے راستے کو بند کیا جاسکتا ہے۔

اس طرح عوام کو ایک عملی نمونہ ملے گا اور ان کے اندر اپنے ملک اور اس کی املاک کی ملکیت اور اہمیت کا احساس پیدا ہوگا اور پھر وہ خود بخود اس کی نگرانی کے عمل کا حصہ بنتے چلے جائیں گے۔

جب عوامی سطح پر ان کے اپنے اچھی شہرت اور کردار کے لوگوں کی قیادت میں مظلوم کی داد رسی کے لئے ایک عملی کوشش ہوگی تو عوام کے اندر نہ صرف آگاہی پیدا ہوگی بلکہ اداروں کی کارکردگی میں بھی بہتری آئے گی اور قوم کی توانائیوں، صلاحیتوں اور وقت کو مثبت سمت استعمال کرنے میں بھی مدد ملے گی۔

جمہوریت اور سول بالادستی کے لئے بھی صدارتی طرز کے ایوارڈ کا اعلان کیا جانا چاہیے اور جن شخصیات نے جمہوریت کی خاطر قید و بند کی صعوبتیں برداشت کی ہیں ان کا خواہ کسی بھی جماعت یا شعبہ سے تعلق ہو ان کی خدمات کے پیش نظر ان کی حوصلہ افزائی کے لئے ان کو نوازا جانا چاہیے۔

ملک سے فرقہ واریت، آمریت اور دہشت گردی کی سوچ کوشکست دینے کے لئے اس کا بنیادوں سے قلع قمع کرنا ہوگا۔ جہاں یہ پروان چڑھتی ہیں وہاں ان کے تدارک کے لئے اصلاحات کی ضرورت ہے۔

Check Also

Hazrat Ayesha (1)

By Saleem Zaman