Monday, 17 January 2022
  1.  Home/
  2. Arif Anis Malik/
  3. Apna Time Aaye Ga

Apna Time Aaye Ga

جی ہاں، میں نے ہی "آئی ایم پاسیبل" کتاب لکھی ہے۔ لیکن اس کتاب کا بنیادی تھیسس یہ ہرگز نہیں ہے کہ تم جو چاہے کر سکتے ہو یا بن سکتے ہو۔ ہوا میں اڑ سکتے اور پانی پر چل سکتے ہو۔ تمہیں جو بھی یہ بتاتا ہے، وہ جھوٹ بولتا ہے، اس پر نظر رکھو۔ ہاں، یہ ضرور ہے کہ تم اپنا بہترین ورژن بن سکتے ہو۔ جو کل تھے آج اس سے کہیں بہتر ہوسکتے ہو۔ حتیٰ کہ صرف ٪1 روزانہ سے بھی کام چل جائے گا۔

آئی ایم پاسیبل کا یہ تھیسس ضرور ہے کہ "تم یہ نہیں کرسکتے "، " اور تم سے نہیں ہوگا"، عموماً دنیاوی چوہدریوں کی مولو مصلیوں کو دھمکی ہوتی ہے۔ اور جب چوہدری کسی کام سے روکیں تو وہ ضرور کر کے دیکھنا چاہیے۔ اور جب وہ ہوجائے تو پھر پتہ چل جاتا ہے کہ کسی چوہدری کے کہے کو دیوار بنانے کی ضرورت نہیں ہے۔

میں نے سنا اور پڑھا ہے کہ ہماری زندگی کا تقریباً ٪80 طے شدہ ہوتا ہے۔ ہمارا جسم، رنگ، قد بت، ڈی این اے، والدین، کلچر، تہذیب، مذہب ہمارا ٪80 ہے جس پر ہمارا بس نہیں چلتا، باقی ٪20 وہ ہے جسے اپنی مرضی سے جی لینا بھی کشش ثقل سے مسلسل دعوت مبارزت کے مترادف ہے۔ بہت کم لوگ وہ بھی جی پاتے ہیں۔ لیکن اس میں سے جتنا بھی جی لیا جائے، معجزے، کرامتیں ہونے لگ جاتی ہیں۔

یہی میرا پرسنل ڈیویلپمنٹ اور موٹیویشن انڈسٹری سے پھڈا ہے۔ جو چاہو، نہیں ہوسکتا۔ ہاں جو کر گزرو، یا جو ہوجائے، اسے چاہا جاسکتا ہے۔ دولت کا حصول اور ملین ایئر بننا میرے لیے کامیابی کا سب سے بڑا سنگ میل نہیں ہے۔ میرے لیے کامیابی اپنی زندگی کے مقصد کو جاننا اور تقریباً روز جینا ہے۔ باقی بہت کچھ اضافی ہے۔ کیا ایک محبت کافی ہے؟

ہاں، میں اس چیز پر بھی یقین رکھتا ہوں کہ ہم سب ایک دوسرے سے مقابلے میں نہیں ہیں، نہ ہی ہم کسی دوڑ کا حصہ ہیں اور نہ ہی ہم کوئی کیل یا ہتھوڑا ہیں، جن میں سے جسے کوئی موقعہ ملے وہ دوسرے کو ٹھوک دے۔

ہم سب اپنے سفر میں ہیں، اپنی قطار میں ہیں۔ ہماری ٹائم لائن ہمارے اپنی ہے، ہماری زندگی کی کہانی کے ہم خود ہی ہیرو ہیں اور کہانی میں جو کچھ، جس وقت ہونا ہے، وہی اس کی خوبصورتی ہے کہ اس ہونے یا نہ ہونے سے کہانی آگے چلے گی۔

کوئی فرق نہیں پڑتا، تمہاری ڈگری کب ختم ہوئی، نوکری کب ہوئی، وہ محبت کب ملی جس کے تم مستحق ہو یا وہ مستحق ہے، گھر کب خریدا یا بنایا، اپنی پسندیدہ گاڑی کب گیراج کے باہر کھڑی کی دنیا کے کسی بندے کی دھونس قبول کرنے کی ضرورت نہیں ہے جو تمہیں اپنی ٹائم لائن کی دھونس دے رہا ہو۔

یاد رکھو، یہ سب ملنے کا ایک وقت ہے۔ یہ سب چھننے کا بھی ایک وقت ہے۔ ٹو ایوری تھنگ دئیر از اے سیزن۔ تم اپنی قطار میں ہو، اپنے سفر پر ہو، خوب صورتی یہی ہے کہ کسی اور کا سفر تمہارے جیسا نہیں ہے۔ اپنی کہانی انجوائے کرو، موج کرو، گیت گاؤ، رقص کرو! یہ ٪20 جو بس میں ہے، یہ بھی بہت کمال، بہت جان لیوا ہے۔ کہانی کا بہترین "ٹوٹا" تو ابھی آگے آنے والا ہے۔