Monday, 17 January 2022
  1.  Home/
  2. Ali Akbar Natiq/
  3. Manzoor Hussain Jhalla

Manzoor Hussain Jhalla

اعظم ملک کی راہ سے دو دن پہلے یہ کتابین میرے ہاتھ لگیں۔ اعظم ملک مجھے تقیر رضا کے گھر کھانے پر ملے اور صفدر وامق کی محنت کا ثمر اُنھوں نے مجھے دیا۔ اُن کا شکریہ ورنہ مَیں یہ خریدنے کے چکر میں تھا۔ خیر اِسے خرید ہی سمجھیے کہ اِس کے بدلے "کماری والا ناول "اعظم ملک صاحب کو تحفہ دی۔ اب میرے دوستو معاملہ یہ ہے کہ مَیں نے جس قدر جذبے، محبت اور جستجو سے یہ کتاب پڑھی ہے، یقین جانیے موجودہ زمانے میں لکھی جانے والی کتابوں میں کئی سال سے ایسے کتاب نہیں پڑھ سکا۔

اِس کتاب کے اندر بس یوں سمجھیں کہ صفدر وامق نے جادو بھرا ہے۔ منظور حسین جھلا سے کون واقف نہیں کہ اُس کے گیتوں نے ایک دنیا کو اپنا دیوانہ بنایا ہوا تھا، مگر اُن کی زندگی ایسی گورکھ دھندہ ہو گی، مجھے معلوم نہ تھا۔ رات ایک بجے کتاب ختم کی اور دل چاہا ابھی پوسٹ لگا دوں، مگر سوچا سب سوئے ہوں گے، کون پڑھے گا۔ صفدر وامق صا حب ویسے تو وہابی ہیں اور اُن کے بخشے جانے کی کوئی امید نہیں تھی، مگر اِس کتاب نے اُنھیں واقعی خدا کی بارگاہ میں بخشش کا پروانہ دلا دیا ہے۔

کتاب شروع ہوتی ہے تو منظور حسین جھلا کی زندگی کا ایک کے بعد ایک طلسم ایسا کھلتا جاتا ہے۔ جیسے شہر زاد شہرِ طلسم میں پھرتا ہو۔ منظور حسین جھلا پر لکھی گئی یہ کتاب سچ بتاوں تو ہر اُس شخص کو پڑھنا چاہیے۔ جس کے سینے میں دل، ہو، موسیقی اور شاعری اور آرٹ کا نام لیوا ہو۔ اور غریب آدمی تو ہر حال میں اِسے پڑھے۔ وامق صاحب نے نہ صرف اِسے متجسس طریقے سے لکھا ہے بلکہ یہاں مَیں خود وامق صاحب کی تحقیق اور اُن کی اُس مشقت کی داددوں گا، جس میں اُنھوں نے اپنا حق ادا کر دیا۔

ایک ایسے فنکار کی زندگی کو تلاش کرنے کے لیے جس نے اپنا سب کچھ مولا پر چھوڑ رکھا تھا۔ یہ کتاب اتنی دلچسپ ہے کہ اول صفحے سے لے کر آخر تک مجال ہے آپ کوئی جملہ چھوڑیں یا بور ہوں۔ چونکہ وامق صاحب فن کی باریکیوں سے بھی واقف ہیں چنانچہ اُنھوں نے جن دلیلوں کی بنیاد پر جھلا کے سرقہ بازوں کی گردن ناپی ہے وہ الگ سے ایک دلچسپ معاملہ ہے۔ یہ کتاب پنجابی نثر میں ہے اور حیرت ناک حد تک نثر رواں ہے۔ اِسے ہر صورت اردو میں ترجمہ ہونا چاہیے۔

واہ وامق صاحب آپ کی اِسی ایک کتاب پر سب گناہ معاف اور جا میری طرف سے تجھے جنت واجب۔ دوستو کوئی اور کتاب پڑھو نہ پڑھو اِسے ضرور پڑھو۔ اِسے بابا فرید فاونڈیشن نے چھاپا ہے۔ دو کتابون کا سیٹ ہے۔ ایک میں حیاتی اور فن ہے اور دوسری میں منطور حسین جھلا کی شاعری ہے اور قیمت ہزار روپیہ ہے۔