Monday, 17 January 2022
  1.  Home/
  2. Ali Akbar Natiq/
  3. Madain

Madain

مدائن میں سلمان فارسی کہ جن کے بارے میں جناب امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ سلمان کو سلمان فارسی مت کہا کرو، اُنھیں سلمان محمدیﷺ بولا کرو کیونکہ رسولِ خداﷺ نے اُن کی بابت کہا تھا کہ سلمان ہمارے اہلِ بیت سے ہے۔ آپ کو خلیفہ ثانی حضرت عمر نے مدائن فتح ہونے کے بعد وہاں کا گورنر نامزد کیا تو آپ مولا علی علیہ السلام کے پاس آئے، دربار کا حکم نامہ دکھایا، آپ نے فرمایا، سلمان تم وہاں ضرور جاو اور وہاں ہمارے حقوق کا خیال رکھنا۔ تو سلمان مدینہ سے مدائن آ گئے۔

مدائن ایرانیوں کا پایہ تخت تھا۔ یہاں کِسریٰ کے محلوں کے وہ کنگرے تھے جو ایک روایت کے مطابق رسول ِ خدا ﷺکی ولادت پر گر گئے تھے۔ یہاں عرب کے مسلمانوں اور ایرانیوں میں بہت زبردست جنگ ہوئی تھی۔ سعد بن ابی وقاص تب فوج کے سالار تھے۔ شبلی نے الفاروق مین تفصیل کے ساتھ اِس لڑائی کا احوال کیا ہے۔ بہت صاف ستھرا اور خوبصورت شہر ہے۔ مجھے بہت لطف آیا۔ دوبارہ عراق میں آوں گا تو یہاں ضرور کچھ دن رہوں گا۔ داعش کی وجہ سے یہ شہر کچھ عرصہ بند بھی رہا ہے مگر اب زائرین کے لیے کھول دیا گیا ہے۔

دوستو اِس کے بعد مجھے دوبارہ بغداد آنا پڑا۔ اِس کا سبب یہ تھا کہ شیخ عبد القادر جیلانی یعنی وہ صاحب کرامت جس نے پہلے کشتی ڈبوئی پھر بارہ سال بعد اُسے تیرایا۔ وہ پیران ِپیر، بچپن میں جس کے ایک دوست کی جان فرشتہ نکال کر لے چلا تھا کہ آپ پہنچ گئے اور بھاگ کر فرشتے کی ارواح والی گتھلی چھین کر ساری روحیں واپس مُردوں کو لوٹا دیں۔ جی ہاں وہی۔ جسے پورا ہندوستان اور پاکستان اپنا پیشوا مانتا ہے اُس کے مزار پر جانا رہ گیا تھا۔ مجھے خوف ہوا میرے اہلِ سنت دوست ناراض نہ ہوں کہ بھائی میاں ہمارے اتنے بڑے پیر کو آپ نے لفٹ نہیں کرائی۔ اور اِدھر ہم ٹھہرے صلح کُل کے داعی، چنانچہ وہاں گئے۔ بغداد والی سرکار کے چرن بھی جا چھوئے۔

پھر خیال آیا کہ امام ابو حنیفہ نے ہماری کون سے کشتی ڈبوئی تھی کہ وہاں نہ جائیں، سو وہاں بھی گئے مگر دیکھ کر بہت افسوس ہوا، امام ابو حنیفہ کی پوری مسجد اور احاطہ بھائیں بھائیں کر رہا تھا ایسا ویران تھا جیسے بھوت بنگلے میں چلے آئے ہیں۔ ایک نمازی نہ تھا نہ ایک بھی زائر۔ پیرانِ پیر عبد القادر جیلانی کے مزار پر تو چلو پھر بھی پاکستان سے گئے ہوئے پانچ دس لوگ موجود تھے اور مراقبے میں بھی تھے یہاں تو کوئی یہ بھی نہ تھا۔ ساری مسجد، سارا احاطہ چھان مارا، نہ کوئی بندہ ملا اور نہ امام ابو حنیفہ کی قبر ملی۔ آخر تھک کر واش رومز کی طرف گیا کہ چلو ہلکے ہو کر گھر لوٹتے ہیں کہ اُسی جگہ ایک بابا جی بیٹھے مسواک کیے جاتے تھے۔ اُن سے پوچھا حضور یہاں ابوحنیفہ کی مرقد کہان ہے۔ بولے کیا کرنا ہے۔ ہم نے کہا فاتحہ کرنی ہے۔ بولا شیعہ تو نہیں ہو؟

ہم نے کہا ہم آپ کی بات سمجھے نہیں۔ کہنے لگا بھئی دیکھیے پاکستان اور ہند سے یہاں اکثر کاظمین میں شیعہ لوگ آتے ہیں وہ اِدھر بھی چلے آتے ہیں اور امامِ اعطم کا مذاق اڑاتے ہیں۔ ہم نے کہا میاں ہوش کے ناخن لو۔ جس کی فقہ پورے ہند و سندھ میں چلتی ہو اُس کا مذاق کون آڑائے گا۔ آپ ہمیں مرقد پر لے چلو، واللہ مذاق بالکل نہیں کریں گے، وہی کریں گے جو کرنے آئے ہیں۔ تو جناب وہ ہمارے آگے چل پڑا اور ہم پیچھے، آخر ایک دروازے پر کھڑا ہو گیا۔ اُس پر پانچ کلو کا تالا چڑھا تھا۔ اُس نے تالا کھولتے ہوئے ایک بار پھر ہماری طرف دیکھا، دیکھو بھائی حنفی ہی ہو نا؟

ہم نے کہا بھائی اب کیوں اپنا مذاق اُڑاواتے ہوئے کھول دو تالا۔ لیجیے بھائی تالا کھل گیا۔ اندر مرقد تھی۔ ہم نے جناب ہاتھ بلند کیے اور دعا مانگی، کہ یا اللہ صاحبِ مرقد کو اِن کے مناسب مقام پر جگہ دے اور اُس کے بعد دو فوٹو لیے۔ تالے والے کو پانچ ہزار عراقی دینار دیے یعنی سات سو کے قریب اور نکل آئے۔ تب وہاں سے کاظمین آئے۔ یعنی جہاں ہماری اپنی دہلیز تھی سجدہ کرنے کی۔

یہاں ایک سیلاب زائرین کا کہ اصلی بارگاہ خدا کی طرف سے ہے۔ اِس جگہ واللہ ہمارے سامنے ایک معجزہ ہوا جسے ہم جلد تفصیل کے ساتھ لکھیں گے۔۔