Monday, 17 January 2022
  1.  Home/
  2. Ali Akbar Natiq/
  3. Kainat Ki Baahein

Kainat Ki Baahein

مَیں شوال کی عید پہ گھر گیا تھا، اِس عرصے کو سوا دو ماہ کا ترازو چڑھ گیا اور دیس کے موسموں کا پھل اُس پہ میزان بار نہ ہو پایا یعنی گھر میں چکر نہ لگایا اور ستم اب کے یہ ہوا کہ سکردو کے ہوائی ٹکٹ کروا لیے یعنی عید سکردو کے آب و دانہ اور گل پھول میں ہونا تھی، اور پرسوں ۱۶ تاریخ کو روانگی تھی۔ کل کی بات ہے کچھ دوستوں نے میرے فلیٹ پر مل بیٹھنے کا پروگرام بنایا اور چار احباب پہنچ بھی گئے کہ اُسی لمحے والدہ کا فون آ گیا، میری والدہ کی صحت قابل رشک نہیں اور عمر بھی پینسٹھ سے اوپر نکل چکی ہے۔ آواز اُن کی بھرائی ہوئی تھی۔ ایک دم مجھے دھچکا سا لگا کہ والدہ کہیں خدا نہ خواستہ زیادہ بیمار تو نہیں ہو گئیں۔ مَیں نے صحت کے متعلق استفسار کیا تو کہنے لگے، صحت تو میری ٹھیک ہے، مگر تم نے کونسا خبر لے لی اور اِس کے ساتھ ہی رو پڑی۔ اب تو میرا دل بیٹھ گیااور کوئی بات مجھ سے ہو نہ پا رہی تھی۔ مَیں نے کہا امی روتی کیوں ہو، بولیں آپ کو سوا دو مہینے گھر سے گئے ہوئے نکل گئے، کبھی میری خبر لی ہے؟ کس حال میں ہوں؟

مَیں نے کہا امی دو تین بار تو آپ سے بات کی ہے اور جب بھی گھر سے ابے کا یا باذر(چھوٹا بھائی) کا فون آتا ہے، آپ کا حال دریافت کرتا رہتا ہوں۔ روتے ہوئے بولی، کیا اب تم ماں کو سمجھاو گے کہ تم نے میری کہاں تک خبر رکھی ہے۔ اب میری حالت یہ تھی کہ بولنے کی طاقت تو ایک طرف قدم اٹھانے کی سکت نہ تھی۔ میری والدہ کی محنت اور مشقت کو مَیں خوب جانتا ہوں۔ جب مَیں ایک چھوٹا بچہ تھا، مفلسی ہمارے گھر میں گلے گلے تھی۔ والد صاحب پردیس میں تھے، عراق اور کویت کے صحراوں میں روزی کماتے تھے۔ اِس عرصے میں والدہ گھر کا سارا کام اور ہماری پرورش کا بار اپنے کاندھوں پر اٹھائے ہوئے تھی۔ چار بھینسوں کا چارہ، پورے گھر کی صفائی، ہمارے کپڑوں کی دھلائی، کچے مکانوں کی لپائی، جنھیں ہر بارش کے بعد دوبارہ لیپ کرنا پڑتا تھا، اور گرمیوں سردیوں میں اپنے ہاتھ سے ہمارے کپڑے سینا، ہانڈی روٹی کرنا اور بھینسوں کا گوبر اٹھانا، سب کچھ والدہ نے اِنھی ناتواں ہاتھوں سے کیا جن کا آج کسی طور بھی اجر ادا نہیں کیا جا سکتا تھا۔ اور اپنے کپڑے لتے کا کبھی خیال نہیں کیا تھا۔

آخر مَیں نے جبر کر کے اپنے گریے کو تھم کر رہنے کو کہا اور والدہ سے کہا امی ابھی اور اِسی وقت آپ کی طرف آ رہا ہوں۔ آپ کو ایسا سوچتی ہیں کہ مَین آپ سے غافل ہو گیا ہوں۔ یہ بات سُن کر وہ ایک دم نہال ہو گئی۔ اور بولی جلدی آ جاو۔ اُسی وقت دوستوں سے کہا میاں اب آج کی محفل برخواست کرتے ہیں اور اگلے دس دن تک سب کچھ معطل ہے۔ اِس لیے معذرت خواہ ہوں کہ والدہ کی ٹھنڈی آہ مجھ سے نہیں سہی جاتی لہذا ابھی گاوں نکلوں گا۔ میاں فرقان سے کہا بھیا گاڑی نکالو، فرقان کو اللہ نے فرشتوں میں سے اٹھا کر پہلے انسانوں میں بھیجا پھر میرے دوستوں میں کر دیا۔

لیجیے ہم دونوں نکلے اور رات ڈیڑھ بجے گھر پہنچ گئے۔ والدہ انتطار میں بیٹھی تھی۔ جاتے ہی گلے لگا لیا اور کچھ نہ پوچھو کیسے جی بھر گیا، دوستو اُسی وقت والدہ ہی کی گود میں لیٹ گیا اور ایسی راحت کی نیند پائی کہ بچپنا لوٹ آیا۔ بہت دِنوں بعد یوں لگا مَیں نہ شاعر ہوں، نہ ناولسٹ، نہ کوئی ادیب اور دانشور۔ میری اصل حقیقت یہی ہے کہ ایک کمسن بچہ ہوں جسے کائنات کی سب سے کشادہ بانہوں نے اپنے حصار میں بھر لیا ہے۔

دوستو والد اور والدہ کی خبر گیری خدا را کرتے رہیو کہ پھر پچھتاووں کے سائے ہوتے ہیں جسم نہیں ہوتے جنھیں دوبارہ چھو سکو۔ اب دوبارہ اسلام آباد پہنچا ہوں، کل سکردو جاوں گا اور اب طبیعت میں سکون ہے۔